ملفوظات (جلد 6) — Page 88
پر ایمان نہیں ہے۔حدیث شریف میں اسی لیے ہے کہ چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور زانی جب زناکرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اس کے یہی معنے ہیں کہ اس کی بداعمالی نے اس کے سچے اور صحیح عقیدہ پر اثر ڈال کراسے ضائع کردیا ہے ہماری جماعت کو چاہیے کہ اعمالِ صالحہ کثرت سے بجا لاوے اگراس کی بھی یہی حالت رہی جیسے اَوروں کی تو پھر امتیاز کیا ہوا۔اور خدا تعالیٰ کو ان کی رعایت اور حفاظت کی کیا ضرورت۔خدا تعالیٰ اسی وقت رعایت کرے گا جب تقویٰ، طہارت اور سچی اطاعت سے اسے خوش کروگے۔یاد رکھو کہ اس کا کسی سے کچھ رشتہ نہیں ہے محض لاف اور یاوہ گوئی سے کوئی بات نہیں بناکرتی۔سچی اطاعت ایک موت ہے۔جو نہیں بجالاتا وہ خدا تعالیٰ سے شطرنج بازی کرتا ہے کہ مطلب کے وقت تو خدا سے خوش ہوتا ہے اور جب مطلب نہ ہو تو ناراض ہو گیا مومن کا یہ دستور نہیں چاہیے۔بھلا غور تو کرو کہ اگر خدا تعالیٰ ہر ایک میدان میں کامیابی دیتا رہے اور کوئی ناکامی کی صورت کبھی پیش نہ آوے تو کیا سب جہاں موحد نہیں ہوسکتا اور خصوصیت کیا رہے گی اسی لیے جو مصیبت میں وفا اور صدق رکھے گا خدا اسی سے خوش ہوگا۔نماز کو سنوار کرادا کریں نماز ایسے نہ ادا کرو جیسے مرغی دانے کے لیے ٹھونگ مارتی ہے بلکہ سوزوگداز سے ادا کرو اور دعائیں بہت کیا کرو نماز مشکلات کی کنجی ہے ماثورہ دعاؤں اور کلمات کے سوا اپنی مادری زبان میں بھی بہت دعاکیا کرو تا اس سے سوز و گداز کی تحریک ہو اور جب تک سوز و گدازنہ ہو اسے ترک مت کرو کیونکہ اس سے تزکیہ نفس ہوتا ہے اور سب کچھ ملتا ہے چاہیے کہ نماز کی جس قدر جسمانی صورتیں ہیں ان سب کے ساتھ دل بھی ویسے ہی تابع ہو اگر جسمانی طور پر کھڑے ہو تو دل بھی خدا کی اطاعت کے لیے ویسے ہی کھڑا ہو اگر جھکوتودل بھی ویسے ہی جھکے اگر سجدہ کرو تو دل بھی ویسے ہی سجدہ کرے دل کا سجدہ یہ ہے کہ کسی حال میں خدا کو نہ چھوڑے جب یہ حالت ہو گی تو گناہ دور ہونے شروع ہو جاویں گے معرفت بھی ایک شَے ہے جو کہ گناہ سے انسان کو روکتی ہے جیسے جو شخص سم الفار،سانپ اور شیر کو ہلاک کرنے والا جانتا ہے تووہ ان کے نزدیک