ملفوظات (جلد 6) — Page 87
آبپاشی اگر عمدہ نہ ہو تو آخر خراب ہو جاوے گا اسی طرح اگر عقیدہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو لیکن عمل صالح اگر اس کے ساتھ نہ ہوگا تو شیطان آکر تباہ کر دے گا۔تلاش کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری صدی تک کُل اہلِ اسلام کا یہی مذہب رہا ہے کہ کُل نبی فوت ہو گئے ہیں چنانچہ صحابہ کرامؓ کا بھی یہی مذہب تھا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔صحابہؓ کا اجماع ہوا حضرت عمرؓ وفات کے منکر تھے اور وہ آپ کو زندہ ہی مانتے تھے آخر ابو بکر ؓ نے آکر مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( اٰل عـمران:۱۴۵) کی آیت سنائی تو حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہؓ کو آپ کی موت کا یقین آیا اور اگر صحابہ کرامؓ کا یہ عقیدہ ہوتا کہ کوئی نبی زندہ ہے توسب اٹھ کر ابو بکر ؓ کی خبر لیتے کہ ہمارا عقیدہ مسیح کی نسبت ہے کہ وہ زندہ ہے تُو کیسے کہتا ہے کہ سب نبی فوت ہو گئے۔اور کیا وجہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نہ ہوں اگر بعض مَرتے اور بعض زندہ ہوتے تو کسی قسم کا افسوس نہ ہوتا مگرغر یب سے لے کرامیرتک سب مَرتے ہیں پھر مسیح کو کیسے زندہ مانا جاوے تیسری صدی کے بعد حیاتِ مسیح کا اعتقاد مسلمانوں میں شامل ہوا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ نئے نئے عیسائی مسلمان ہو کر ان میں ملتے گئے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ایک نئی قوم کسی مذہب میں داخل ہوتو اپنے مذہب کی رسوم اور بدعات جو وہ ہمراہ لاتی ہے اس کا کچھ حصّہ نئے مذہب میں مل جاتا ہے ایسے ہی عیسائی جب مسلمان ہوئے تو یہ خیال ہمراہ لائے اور رفتہ رفتہ وہ مسلمانوں میں پختہ ہو گیا ہاں جن لوگوں نے ہمارا زمانہ نہیں پایا نہ اس مسئلہ پر انہوں نے بحث کی وہ تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ(البقرۃ:۱۳۵) کے مصداق ہوئے لیکن اب جو ہمارے مقابلہ پر آئے اور اتمامِ حجّت ان پر ہوا وہ قابلِ اعتراض ٹھہر گئے ہیں اگر ان لوگوں کے اعمال صالحہ ہوتے تو یہ عقیدہ ان میں رواج نہ پاتا جب وہ چھوٹ گئے تو ایسے ایسے عقائد شامل ہو گئے۔اعمالِ صالحہ کثرت سے بجالائیں پس جو شخص ایمان کو قائم رکھنا چاہتا ہے وہ اعمالِ صالحہ میں ترقی کرے یہ روحانی امورہیں اور اعمال کا اثرعقائد پر پڑتا ہے جن لوگوں نے بدکاری وغیرہ اختیار کی ہے ان کو دیکھو تو آخر معلوم ہوگا کہ ان کا خدا