ملفوظات (جلد 6) — Page 86
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے اس کا نام تک ان میں نہیں رہا صلیبی مذہب کس زور سے پھیل رہا ہے جس کا ذکر میں نے ابھی چند دن ہوئے کیا تھا پس جب یہ حال ہے تو عقائد کی درستی بہت ضروری شَے ہے سچا،صحیح اور خدا کی مرضی کے موافق یہی مسئلہ ہے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو قرآن شریف باطل ٹھہرتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت جو بہت عزّت کے قابل ہے یہ ہے کہ آپ اسے اموات میں یحیٰیؑ کے پاس دیکھ آئے اگر ان کی روح قبض نہیں ہوئی تھی تو دوسرے عالم میں کیسے چلے گئے قیام توحید کے لیے یہ مسئلہ بہت ضروری ہے کہ مسیح فوت ہو گئے اور جو اسے پورے یقین سے نہیں مانتا خطرہ ہے کہ وہ کہیں عیسائیت سے حصّہ نہ لے لے یا ایک دن عیسائی ہی نہ ہو جائے انسان اسی طرح مرتد ہواکرتا ہے کہ ایک ایک جزو چھوڑتا ہوا آخر کار کُل چھوڑ دیتا ہے دوسرے عقائد میں بہت اختلاف نہیں ہے صرف یہی عظیم الشّان بات ہے جوخدا نے بتلائی ہے کہ مسیحؑ فوت ہو گیا ہے۔جو لوگ اس بارہ میں ہماری مخالفت کرتے ہیں ان کے ہاتھ میں بجز اقوال کے اور کچھ نہیں ہے اگر وہ کہیں کہ قرآن کے مخالف احادیث میں نزول کا لفظ موجود ہے تو جواب ہے کہ اوّل تو وہاں مِنَ السَّمَآءِ نہیں لکھا کہ وہ ضرورآسمان سے ہی آوے گا دوسرے احادیث تو مِنْکُمْ سے بھی بھری پڑی ہیں نزول اصل میں ا کرام اور جلال کا لفظ ہے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے لیے استعمال فرمایا ہے حتی کہ احادیث میں تو دجال کے لیے بھی نزول کا لفظ آیا ہے پھر کیا یہ سب آسمان سے آئے اور آویں گے۔قرآن شریف سے یہی ثابت نہیں ہوتا کہ مسیح دوبارہ نہ آوے گا بلکہ یہ بھی کہ وہ مَرگیا جیسا کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ (المائدۃ:۱۱۸)بتلا رہی ہے۔دوسرا حصّہ یہ ہے کہ انسان صرف عقائد سے ہی نجات نہیں پاتا بلکہ اس کے ساتھ اعمالِ صالحہ کا ہونا بھی ضروری ہے خدا نے اس بات پر ہی کفایت نہیں کی کہ انسان کے لیے صرف لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ منہ سے کہہ دینا ہی کافی ہو ورنہ قرآن شریف اس قدر ضخیم کتاب نہ ہوتی ایک فقرہ ہی ہوتا۔عقائد کی مثال ایک باغ کی ہے جس کے بہت عمدہ پھل اور پھول ہوں اور اعمالِ صالحہ وہ مصفّٰی پانی ہے جس کے ذریعے سے اس باغ کا قیام اور نشوونما ہوتا ہے ایک باغ خواہ کتنا ہی اعلیٰ درجہ کا کیوں نہ ہو لیکن اس کی