ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 72

مجھے تعجب آتا ہے کہ ان کم بختوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو نشانہ بنایا ہے ایک عاجز ابن آدم کو خدا بنایا جاتا ہے اور بد عملی کو بے حیائی اور جرأت سے کیا جاتا ہے۔اُمُّ الخبائث (شراب) پانی کی طرح پی جاتی ہے۱ مگر اس پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے پاک ومطہّر انسان کی پاک ذات پر حملے کرنے کے لیے زبان کشائی کرتے ہیں۔ان کے ملکوں میں جاکر اگر کوئی عفت اور پارسائی کا نمونہ دیکھنا چاہے تو اسے معلوم ہوگا کہ کفّارہ کے کیا کیا برکات ان پر نازل ہوئے ہیں۔جو۲ بڑے مہذّب کہلاتے ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ وہ ہمہ تن دنیا ہی کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور ایسے سرنگوں دنیا کے سامنے ہوئے ہیں کہ انہوں نے دنیا ہی کو خدا سمجھ لیا ہے۔ان کے نزدیک اِنْ شَاءَ اللہ کہنا بھی ہنسی کی بات ہےاور ان کے اثر سے ہزاروں لاکھوں انسان تباہ ہورہے ہیں اور توجہ اِلَی اللہ اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنا خطرناک غلطی اور حماقت ہے۔باوجودیکہ یہ حالت ان لوگوں کی ہو چکی ہے لیکن اسلام کے استیصال کے لیے وہ لاکھوں کروڑوں روپیہ پانی کی طرح بہارہے ہیں مگر یاد رکھو کہ اسلام ان کے مٹانے سے مٹ نہیں سکتا۔اس کا محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے۔علماء اسلام کی حالت اب اسلام کی اندرونی حالت دیکھو۔فیض کا چشمہ علماء۳تھے مگر ان کی حالت ایسی قابلِ رحم ہوگئی ہے کہ اس کے بیان کرنے سے بھی شرم آجاتی ہے۔جس غلطی پر کوئی اڑ گیا ہے یا جو کچھ اس کے منہ سے نکل گیا ہے ممکن نہیں کہ وہ اسے چھوڑ دے۔اس غلطی کو جس نے ظاہر کیا۔جھٹ پٹ اسے کافر اور دجّال کا خطاب مل گیا۔حالانکہ۱ صادق اور راست باز کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جہاں اسے کسی اپنی غلطی کا پتا ملا وہ اسے وہیں چھوڑ دیتا ہے اسے ضداور اصرار اپنی غلطی پر نہیں ہوتا۔مختلف فرقہ بندیاں باہمی تحقیر،قرآن اور اسلام سے بےخبری صاف طور پر ان کی حالت کو بتارہی ہے۔جو باتیں صرف دنیا تک ہیں ان کی سزا اوراثر بھی دنیا ہی تک محدودہے مگر جو امور عاقبت کے متعلق ہیں ان میں اگر سستی اور بے پروائی کی جاوے تو اس کا نتیجہ جہنم ہوتا ہے۔۱البدر میں ہے۔’’حالانکہ فاسق اور متقی میں یہی فرق ہوا کرتا ہے کہ متقی کو جب غلطی کا پتا لگ جاوے تو وہ اسے فوراً ترک کر دیتا ہے اور فاسق نہیں کرتا ہر ایک شخص یا قوم کی غلطیاں ایک حد تک معلوم ہو جاتی ہیں مگر ان کی غلطیوں اور خباثتوں کا کوئی انتہا نظر نہیں آتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۰مورخہ ۸؍ مارچ ۱۹۰۴ءصفحہ۳) ۲ البدرسے۔’’دعویٰ توقرآن، حدیث اور خدا پر ایمان کا ہے مگر ان کے آگے جب یہ پیش کیا جاوے اور کہا جاوے کہ غلطی چھوڑ دوتو ایک بات کا بھی اثر نہیں ہوتا بھلابتلاؤ کہ ایک مومن کے لیے اس سے بڑھ کر اَور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ اس کے آگے قر آن شریف پیش کیا جاوے، احادیث پیش کی جاویں، نشانات پیش کئے جاویں علاوہ اس کے عقل بھی کام کی شَے ہے اس سے بھی نیک وبد کی تمیز ہوتی ہے اس سے بھی سمجھا یا جاوے مگر ان کو کسی سے فائدہ نہیں پہنچتا۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۰مورخہ ۸؍ مارچ ۱۹۰۴ءصفحہ۳)