ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 73

شرم آجاتی ہے۔جس غلطی پر کوئی اڑ گیا ہے یا جو کچھ اس کے منہ سے نکل گیا ہے ممکن نہیں کہ وہ اسے چھوڑ دے۔اس غلطی کو جس نے ظاہر کیا۔جھٹ پٹ اسے کافر اور دجّال کا خطاب مل گیا۔حالانکہ۱ صادق اور راست باز کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جہاں اسے کسی اپنی غلطی کا پتا ملا وہ اسے وہیں چھوڑ دیتا ہے اسے ضداور اصرار اپنی غلطی پر نہیں ہوتا۔مختلف فرقہ بندیاں باہمی تحقیر،قرآن اور اسلام سے بےخبری صاف طور پر ان کی حالت کو بتارہی ہے۔جو باتیں صرف دنیا تک ہیں ان کی سزا اوراثر بھی دنیا ہی تک محدودہے مگر جو امور عاقبت کے متعلق ہیں ان میں اگر سستی اور بے پروائی کی جاوے تو اس کا نتیجہ جہنم ہوتا ہے۔میں بعض وقت ان لوگوں کی حالت دیکھ کر سخت حیران ہوجاتا ہوں اور خیال گذرتا ہے کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ پریقین نہیں۲ ورنہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ آیات ونشانات دیکھتے ہیں۔ہم دلائل پیش کرتے ہیں مگر ان پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا مو من کے سامنے اگر اللہ تعالیٰ کا کلام پیش کیا جاوے وہ فوراً ڈر جاتا ہے اور جرأت سے اس کی تکذیب پر لب کشائی نہیں کرتا مگر ان کی عجب حالت ہے کہ ہم اپنی تائید میں سب سے اوّل تو یہ پیش کرتے ہیں کہ خدا نے مجھے مامور کیا ہے اور پھر اپنی تائید ِدعویٰ میں ہم آیاتِ قرآنیہ پیش کرتے ہیں لیکن یہ دونوں سے انکار کرتے ہیں اور پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت پیش کرتے ہیں اس سے ہی تر ساں ہو جاتے مگر اس کا بھی کچھ اثر نہیں ہوتا خدا تعالیٰ کے نشان دیکھتے ہیں مگر تکذیب کرتے ہیں عقلی دلائل کا اثر نہیں غرض جو طریق ایک راست باز کی شناخت کے ہوسکتے ہیں وہ سب پیش کئے جاتے ہیں لیکن ایک بھی نہیں مانتے۔۱ البدر میں ہے۔’’ مثنوی میں مولانا روم نے ایک قصہ لکھا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۰مورخہ ۸؍ مارچ ۱۹۰۴ءصفحہ۳) ۲ البدر سے۔’’اس نے کہا جس اسم اعظم کے ذریعے سے معجزات دکھا تے ہو وہی ان پر بھی پڑھ کر پھونک دوکہا کہ کئی مرتبہ پھونک چکا ہوں مگر ان پر اس کا بھی اثر نہیں ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۰مورخہ ۸؍ مارچ ۱۹۰۴ءصفحہ۳) ۳ البدر سے۔’’ ہمارا یہ منشا ہرگز نہیں ہے کہ تجارت وغیرہ ذرائع معاش کو ترک کر دیا جاوے اور نہ ہم ان باتوں سے کسی کو منع کرتے ہیں۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۰مورخہ ۸؍ مارچ ۱۹۰۴ءصفحہ۳)