ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 71

ہیں کہ زندگی قیامت کا نمونہ ہوجاتی ہے اور اب یہ وہی دن ہیں کیونکہ میں دیکھتا ہوںسچائی سے بجائے محبت کے بغض کیا جاتا ہے اور عملی حالتیں خراب ہوچکی ہیں۔غلط اعتقادات پر ایسا زور دیا گیا ہے کہ حدّ اعتدال سے بہت تجاوز ہوگیا ہے اور اس حالت پر پہنچ گیا ہے جس کو اعتدا کہتے ہیں۔اسلام پر عیسائیت کی یلغار ساری قوموں کو دیکھو کہ تیرہ سو برس سے بالکل خاموش اور چپ چاپ تھے اگرچہ اسلام کے ساتھ ان کی لڑائیاں بھی ہوتی رہیں مگر وہ شوخیاں اور شرارتیں جواب اسلام کے استیصال اور نا بود کرنے کے واسطے کی جاتی ہیں نہیں کی جاتی تھیں اور وہ مذہبی زہر نہ تھا جو آج ہے۔پچاس برس پہلے اگر ان کتابوں کو تلاش کریں جو اسلام کے خلاف لکھی گئی تھیں تو شائد ایک۱ بھی نہ ملے لیکن اب اس قدر کتابیں، اخبارات اور رسالے، اشتہارات نکلتے ہیں کہ اگر ان کو جمع کیا جاوے تو ایک پہاڑ بن جاوے۔بعض پرچے عیسائیوں کے کئی کئی لاکھ طبع ہوتے ہیں۔۲ جن میں ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے۔ایسا مجدّد،مصلح اور پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو ایسے وقت آیا جبکہ دنیا نجاست سے بھری ہوئی تھی اس وقت آپ نے دنیا کو پاک صاف کیا اور اس مُردہ عالم کو زندہ کیا۔اس کی پاک شان میں وہ فحش گالیاں دی جاتی ہیں جو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر میں سے کبھی کسی کو نہیں دی گئیں۔مجھے تعجب آتا ہے کہ ان کم بختوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو نشانہ بنایا ہے ایک عاجز ۱ البدر سے۔’’ نصاریٰ کے اعتقاد کا تو یہ حال ہے۔اب عملی حالت کی طرف نظر کرو کہ کنجریوں سے بدتر ہیں عفت وغیرہ کا نام ونشان نہیں شراب پانی کی طرح پی جاتی ہے کھلی زناکاری کتوں اور کتیوں کی طرح ہو رہی ہے اگر کفارے کے اثر کا پورا نقشہ دیکھنا ہو تو یورپ کے ملکوں کی سیر کی جاوے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴) ۲ البدر میں یوں لکھا ہے۔’’پھر ان کے علاوہ ایک اَور فرقہ ہے جو اپنے آپ کو مہذّب کہتا ہے ان لوگوں نے دنیا کو خدا بنا رکھا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴) ۳ البدر میں ہے۔’’ فیوض اور برکات کا سر چشمہ علماء ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے عام مخلوق ہدایت پاتی ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۰مورخہ ۸؍ مارچ ۱۹۰۴ءصفحہ۳)