ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 351

کے دَر پے ہوئی اور پھر عیسائی بھی دشمن ہوگئے۔جب ان کو سنایا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف ایک خدا کے بندے اور رسول تھے تو ان کو آگ لگ گئی کیونکہ وہ تو ان کو خدا بنائے بیٹھے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر حقیقت کھول دی۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ انسان جس کو خدا بنا لیتا ہے اور اپنا معبود مانتا ہے۔اس کا ترک کرنا آسان نہیں ہوتا بلکہ پھر اس کو چھوڑنا بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے۔عیسائیوںکا یہ اعتقاد پختہ ہوگیا ہوا تھا اس لیے جب انہوں نے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مصنوعی خد اکو انسان بنا دیا تو وہ دشمن جان بن گئے اور اسی طرح پر یہودیوں میں بہت سی مشرکانہ رسومات پیدا ہوگئی تھیں اور وہ حضرت مسیح کا بالکل انکار کرتے تھے۔جب ان کو متنبہ کیا گیا تو وہ بھی مخالفت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔وہ تو حضرت مسیح کو معاذ اللہ مکّار اور کذّاب کہتے تھے۔بالمقابل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا کہ تم ان کو کذّاب کہنے میں خود کذّاب ہو۔وہ خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ نبی ہے۔اس کے علاوہ ان کی مخالفت کی ایک بڑی بھاری وجہ یہ ہوئی کہ وہ اپنی بے وقوفی اور کم فہمی سے یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ خاتم الانبیاء بنی اسرائیل میں سے آئے گا کیونکہ توریت میں جیسا کہ سنّت اللہ ہے آخری نبی کے متعلق جو پیشگوئی ہے وہ ایسے الفاظ میں ہے جس سے ان کو یہ شبہ پیدا ہوگیا تھا وہاں لکھا ہے کہ تمہارے بھائیوں میں سے۔وہ اس سے مراد بنی اسرائیل ہی لیے بیٹھے تھے حالانکہ اس سے مراد بنی اسماعیل تھی۔پس جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ سنا کہ وہ خاتم الانبیاء ہیں تو ان کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیااور جو کچھ وہ توریت کی اس پیشگوئی کے موافق سمجھے بیٹھے تھے وہ غلط قرار دیا گیا۔اس سے ان کے آگ لگی اور وہ مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔پیشگوئیوں کے متعلق سنّت اللہ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں میں سنّت اللہ یہی ہے کہ ان میں اخفا اور ابتلا کا بھی ایک پہلو ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ پہلو نہ رکھا جاوے تو پھر کوئی اختلاف ہی نہ رہے اور سب کا ایک ہی مذہب ہوجاتا۔مگر خدا تعالیٰ نے امتیاز کے لیے ایسا ہی چاہا ہے کہ پیشگوئیوں میں ایک ابتلا کا پہلو رکھ دیتا ہے۔کوتاہ اندیش