ملفوظات (جلد 6) — Page 350
کیا۔لکھا ہے کہ جب آپؐنے قریش کی دعوت کی اور سب کو بلا کر کہا کہ میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں اس کا جواب دو یعنی میں اگر تمہیں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑی بھاری فوج پڑی ہوئی ہے اور وہ اس گھات میں بیٹھی ہوئی ہے کہ موقع پاکر تمہیں ہلاک کر دے تو کیا تم باور کرو گے۔سب نے بالاتفاق کہا کہ بیشک ہم اس بات کوتسلیم کریں گے اس لیے کہ تو ہمیشہ سے صادق اور امین ہے۔جب وہ یہ اقرار کر چکے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو میں سچ کہتا ہوں کہ میں خدا تعالیٰ کا پیغمبر ہوں اور تم کو آنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں۔اتنی بات کہنی تھی کہ سب آگ ہو گئے اور ایک شریر بول اٹھا۔تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْیَوْمِ۔افسوس جو بات ان کی نجات اور بہتری کی تھی نا عاقبت اندیش قوم نے اس کو ہی بُرا سمجھا اور مخالفت پر آمادہ ہوگئے۔اب اس کے بالمقابل موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو دیکھو بنی اسرائیل باوجودیکہ ایک سخت دل قوم تھی لیکن انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ پر فوراً ہی اس کو قبول کر لیا اور اس طرف موسیٰ علیہ السلام سے افضل کو قوم نے تسلیم نہ کیا اور مخالفت کے لیے تیار ہوگئے۔مصائب کا سلسلہ شروع ہوگیا۔آئے دن قتل کے منصوبے ہونے لگے اور یہ زمانہ اتنا لمبا ہوگیا کہ تیرہ برس تک برابر چلا گیا۔تیرہ برس کا زمانہ کم نہیں ہوتا۔اس عرصہ میں آپؐنے جس قدر دکھ اٹھائے ان کا بیان بھی آسان نہیں ہے۔قوم کی طرف سے تکالیف اور ایذا رسانی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جاتی تھی اور ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر اور استقلال کی ہدایت ہوتی تھی اور بار بار حکم ہوتا تھا کہ جس طرح پہلے نبیوں نے صبر کیا ہے تو بھی صبر کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کمال صبر کے ساتھ ان تکالیف کو برداشت کرتے تھے اور تبلیغ میں سست نہ ہوتے تھے بلکہ قدم آگے ہی پڑتا تھا اور اصل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر پہلے نبیوں کا سا نہ تھا کیونکہ وہ تو ایک محدود قوم کے لیے مبعوث ہو کر آئے تھے اس لیے ان کی تکالیف اور ایذارسانیاں بھی اسی حد تک محدود ہوتی تھیں۔۱ لیکن اس کے مقابلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر بہت ہی بڑا تھا کیونکہ سب سے اوّل تو اپنی ہی قوم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالف ہوگئی اور ایذا رسانی