ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 352

ظاہر پرست اس پر اَڑ جاتے ہیں اور اصل مقصد سے دور جا پڑتے ہیں۔اسی طرح پر ان یہودیوں کو یہ مشکل پیش آئی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شک میں پڑ گئے۔اگر تورات میں وہ پیشگوئی صاف الفاظ میں ہوتی کہ آنے والا نبی بنی اسماعیل میں سے ہوگا اور اس کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوگا۔اس کے باپ کا نام عبد اللہ بن عبد المطلب ہوگا اور اس کی ماں کا نام آمنہ ہوگا تو یہودی کیوںکر انکار کرتے؟ مگر ان کی بد قسمتی سے پیشگوئی میں ایسی صراحت نہ تھی۔وہاں لکھا تھا کہ تیرے بھائیوں میں سے وہ اس سے مراد بنی اسرائیل ہی سمجھتے رہے۔ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت بھی یہودیوں کو ٹھوکر لگی تھی۔ملاکی نبی کی کتاب میں حضرت مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا کے آنے کی پیشگوئی درج ہے۔جب حضرت مسیح آگئے اور انہوںنے دعویٰ کیا تو یہودی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے کہ پہلے الیاس کا آنا ضروری ہے۔اس لیے وہ انکار کرنے لگے چنانچہ انہوں نے خود حضرت مسیح سے یہی سوال کیا کہ الیاس کا آنا جو مسیح سے پہلے ضروری ہے وہ کہاں ہے؟ حضرت مسیح نے کہا کہ آنے والا الیاس آگیا ہے یعنی وہ یوحنا ابن زکریا کے رنگ میں آیا ہے چاہو تو قبول کرو مگر یہ بات ان کی تسلّی کا موجب کیوںکر ہو سکتی تھی۔وہ اس بات پر اڑے رہے کہ وہاں کسی مثیل کے آنے کی خبر تو دی نہیں گئی وہاں تو خود ایلیا کے آنے کا وعدہ ہے۔اس بِنا پر وہ انکار کرتے رہے اور دکھ اور تکلیفیں بھی پہنچاتے رہے یہاں تک کہ اب بھی یہودی یہی یقین رکھتے ہیں۔میرے پاس ایک فاضل یہودی کی کتاب ہے۔اس نے اس مسئلہ پر ایک لمبی بحث کی ہے اور کہا ہے کہ ہم اس مسیح کو کیوںکر قبول کر سکتے تھے جبکہ اس سے پہلے ایلیا نہیں آیا۔یہ شخص جو یسوع مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کا دعویٰ بناوٹی اور جھوٹا ہے کیونکہ وہ ایلیا کے دوبارہ آنے کی جھوٹی تاویل کرتا ہے۔ہم اس کے خالہ زاد بھائی یحییٰ کو کیوںکر ایلیا سمجھ لیں پھر وہ لوگوں کے سامنے اپیل کرتا ہے کہ ہم کس طرح پر اس شخص کے دعویٰ کو تسلیم کر لیں جبکہ ہمیں یہ خبر دی گئی تھی کہ پہلے ایلیا آئے گا۔اس میں کسی مثیل کا وعدہ نہیں کیا گیا۔آخر میں کہتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ قیامت کو ہم سے سوال کرے گا کہ کیوں اس مسیح کو قبول نہیں کیا تو ہم ملاکی نبی کی کتاب کھول کر اس کے سامنے رکھ دیں گے