ملفوظات (جلد 6) — Page 342
کسی کو منصوبہ کرنے کی ضرورت نہیں۔کسی مخالفت کی حاجت نہیں۔وہ سب سے پہلے خود ہم کو ہلاک کر دے گا۔ہمیشہ سے سنّت اللہ اسی طرح پر چلی آئی ہے۔جب بنی اسرائیل نے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اختیار کی اور اس نے گناہ کیا خدا تعالیٰ نے اس قوم کو ہلاک کیا حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پیغمبر ان میں موجود تھے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہ سے سخت بیزار اور متنفّر ہے۔وہ کبھی پسند نہیں کر سکتا کہ ایک شخص بغاوت کرے اور اس کو سزا نہ دی جاوے۔یہ بات بھی خوب یاد رکھو کہ گنہگار خدا تعالیٰ پر ایمان اور یقین نہیں رکھتا۔اگر ایمان رکھتا تو ہرگز گناہ کرنے کی جرأت نہ کرتا۔حدیث میں جو آیا ہے کہ چوری کرنے والا یا زانی یا بدکار اپنے فعل کے وقت مومن نہیں ہوتا۔اس کا بھی یہی مطلب ہے کیونکہ سچا ایمان تو گناہ سے دور کرتاہے اور شیطان کی کُشتی میں وہ شیطان پر غالب آجاتا ہے لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص علانیہ بدکاری میں مبتلا ہے اور دوسری خطاکاریوں سے باوجودیکہ ان کی بُرائی سے آگاہ ہے باز نہیں آتا تو پھر بجز اس کے اور کیا کہنا پڑے گا کہ وہ خدا پر ایمان نہیں رکھتا۔اگر ایمان رکھتا تو کیوں ان بدیوں سے نہ بچتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدا گناہ سے سخت بیزار ہے اور اس کا نتیجہ بہت ہی بُرا اور تکلیف دِہ ہے۔انسانی نفس کے مراتب نفس کی تین حالتیں ہیں یا یہ کہو کہ نفس تین رنگ بدلتا ہے۔بچپن کی حالت میں نفس زکیہ ہوتا ہے۔یعنی بالکل سادہ ہوتا ہے۔اس عمر کے طے کرنے کے بعد پھر نفس پر تین حالتیں آتی ہیں سب سے اوّل جو حالت ہوتی ہے اس کا نام نفسِ امّارہ ہے۔اس حالت میں انسان کی تمام طبعی قوتیں جوش زن ہوتی ہیں اور اس کی ایسی مثال ہوتی ہے جیسے دریا کا سیلاب آجاوے اس وقت قریب ہے کہ غرق ہو جاوے۔یہ جوشِ نفس ہر قسم کی بے اعتدالیوں کی طرف لے جاتا ہے۔لیکن پھر اس پر ایک حالت اور بھی آجاتی ہے جس کا نام نفسِ لوّامہ ہے۔اس کا نام لوّامہ