ملفوظات (جلد 6) — Page 343
لیے رکھا گیا ہے کہ وہ بدی پر ملامت کرتا ہے اور یہ حالت نفس کی روا نہیں رکھتی کہ انسان ہر قسم کی بےاعتدالیوں اور جوشوں کا شکار ہوتا چلا جاوے جیسا کہ نفسِ امّارہ کی صورت میں تھا بلکہ نفسِ لوّامہ اسے بدیوں پر ملامت کرتا ہے۔یہ سچ ہے کہ نفسِ لوّامہ کی حالت میں انسان بالکل گناہ سے پاک اور بَری نہیں ہوتا مگر اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ اس حالت میں انسان کی شیطان اور گناہ کے ساتھ ایک جنگ ہوتی رہتی ہے۔کبھی شیطان غالب آجاتا ہے اور کبھی وہ غالب آجاتا ہے۔مگر نفسِ لوّامہ والا خدا تعالیٰ کے رحم کا مستحق ہوتا ہے اس لیے کہ وہ بدیوں کے خلاف اپنے نفس سے جنگ کرتا رہتا ہے اور آخر اسی کشمکش اور جنگ و جدل میں اللہ تعالیٰ اس پر رحم کر دیتا ہے اور اسے وہ نفس کی حالت عطا ہوتی ہے جس کا نام مطمئنّہ ہے یعنی اس حالت میں انسان شیطان اور نفس کی لڑائی میں فتح پاکر انسانیت اور نیکی کے قلعہ کے اندر آکر داخل ہوجاتا ہے اور اس قلعہ کو فتح کر کے مطمئن ہوجاتا ہے۔اس وقت یہ خدا پر راضی ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اس پر راضی ہوتا ہے۔کیونکہ یہ پورے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں فنا اور محو ہوجاتا ہے۔اور خد اتعالیٰ کی مقادیر کے ساتھ اس کو پوری صلح اور رضا حاصل ہوتی ہے۔چنانچہ فرمایا يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ(الـفجر:۲۸تا۳۱) یعنی اے نفس آرام یافتہ جو خدا سے آرام پاگیا ہے اپنے خدا کی طرف واپس چلا آ۔تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔پس میرے بندوں میں مل جا اور میرے بہشت کے اندر آجا۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سچا رجوع اس وقت ہوتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ کی رضا سے رضاءِ انسانی مل جاوے۔یہ وہ حالت ہے جہاں انسان اولیاء اور ابدال اور مقرّبین کا درجہ پاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ سے مکالمہ کا شرف ملتا ہے اور وحی کی جاتی ہے اور چونکہ وہ ہرقسم کی تاریکی اور شیطانی شرارت سے محفوظ ہوتا ہے۔ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رضا میں زندہ ہوتا ہے۔اس لیے وہ ایک ابدی بہشت اور سرور میں ہوتا ہے۔انسانی ہستی کا مقصد اعلیٰ اور غرض اسی مقام کا حاصل کرنا ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو اسلام کے لفظ میں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے کیونکہ اسلام