ملفوظات (جلد 6) — Page 341
کہ خدا تعالیٰ کا قُرب حاصل کرنے کے لیے ذات کچھ بھی چیز نہیں ہے اور اسے ذرا بھی تعلق نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو سیّد وُلدِ آدم اور افضل الانبیاء ہیں۔انہوںنے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے صاف طور پر فرمایا کہ اے فاطمہؓ !تو اس رشتہ پر بھروسہ نہ کرنا کہ میں پیغمبر زادی ہوں۔قیامت کو یہ ہرگز نہیں پوچھا جاوے گا کہ تیرا باپ کون ہے وہاں تو اعمال کام آئیں گے۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے قُرب سے زیادہ دور پھینکنے والی اور حقیقی نیکی کی طرف آنے سے روکنے والی بڑی بات یہی ذات کا گھمنڈ ہے کیونکہ اس سے تکبّر پیدا ہوتا ہے اور تکبّر ایسی شَے ہے کہ وہ محروم کر دیتا ہے۔علاوہ ازیں وہ اپنا سارا سہارا اپنی غلط فہمی سے اپنی ذات پر سمجھتا ہے کہ میں گیلانی ہوں یا فلاں سیّد ہوں۔حالانکہ وہ نہیں سمجھتا کہ یہ چیزیں وہاںکام نہیں آئیں گی۔ذات اور قوم کی بات تو مَرنے کے ساتھ ہی الگ ہو جاتی ہے۔مَرنے کے بعد اس کا کوئی تعلق باقی رہتا ہی نہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ(الزلزال:۹) کوئی برا عمل کرے خواہ کتنا ہی کیوں نہ کرے اس کی پاداش اس کو ملے گی۔یہاں کوئی تخصیص ذات اور قوم کی نہیں کی اور پھر دوسری جگہ فرمایا ہے اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ (الـحجرات:۱۴) اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔پس ذاتوں پر ناز اور گھمنڈ نہ کرو کہ یہ نیکی کے لیے روک کا باعث ہوجاتا ہے۔ہاں ضروری یہ ہے کہ نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرو۔خدا تعالیٰ کے فضل اور برکات اسی راہ سے آتے ہیں۔میں خوب جانتا ہوں کہ ہماری جماعت اور ہم جو کچھ ہیں اسی حال میں اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت ہمارے شاملِ حال ہوگی کہ ہم صراطِ مستقیم پر چلیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اور سچی اتباع کریں۔قرآن شریف کی پاک تعلیم کو اپنا دستورُ العمل بناویں اور ان باتوں کو ہم اپنے عمل اور حال سے ثابت کریں نہ صرف قال سے۔اگر ہم اس طریق کو اختیار کریں گے تو یقیناً یاد رکھو کہ ساری دنیا بھی مل کر ہم کو ہلاک کرنا چاہے تو ہم ہلاک نہیں ہو سکتے۔اس لیے کہ خدا ہمارے ساتھ ہوگا۔لیکن اگر ہم خدا تعالیٰ کے نافرمان اور اس سے قطع تعلق کر چکے ہیں تو ہماری ہلاکت کے لیے