ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 309

ایسا نہ ہو کہ تھوڑے سے خیال سے ماتم کا دن بنا دو۔عید کے دن اگر ماتم ہو تو کیسا غم ہوتا ہے کہ دوسرے خوش ہوں اور اس کے گھر ماتم ہو۔موت تو سب کو ناگوار معلوم ہوتی ہے لیکن جس کے گھر عید کے دن موت ہو وہ کس قدر ناخوش گوار ہوگی۔قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان ایک نعمت کی قدر نہیں کرتا وہ ضائع ہوجاتی ہے۔دیکھو جن چیزوں کی تم قدر کرتے ہو ان کو صندوقوں میں بڑی حفاظت سے رکھتے ہو۔اگر ایسا نہ کرو تو وہ ضائع ہو جاتی ہے۔اسی طرح اس مال کا جو ایمان کا مال ہے چور شیطان ہے اگر اس کو بچا کر دل کے صندوقوں میں احتیاط سے نہ رکھو گے تو چور آئے گا اور لے جائے گا۔یہ چور بہت ہی خطرناک ہے۔دوسرے جو چور اندھیری راتوں میں آکر نقب لگاتے ہیں وہ اکثر پکڑے جاتے ہیں اور سزا پاتے ہیں لیکن یہ چور ایسا ہے کہ اس کی عمر نہیں ہے اور ابھی پکڑا نہ جائے گا۔یہ اس وقت آتاہے جب گناہ کی تاریکی پھیل جاتی ہے کیونکہ چور اور روشنی میں دشمنی ہے۔جب انسان اپنا منہ خدا کی طرف رکھتا ہے اور اسی کی طرف رجوع اور توجہ کرتا ہے تو وہ روشنی میں ہوتا ہے اور شیطان کو کوئی موقع اپنی دستبرد کا نہیں ملتا۔پس کوشش کرو کہ تمہارے ہاتھوں میں ہمیشہ روشنی رہے۔اگر غفلت بڑھ گئی تو یہ چور آئے گا اور سارا اندوختہ لے جائے گا اور برباد ہوجاؤ گے۔اس لیے اس اندوختہ کو احتیاط اور اپنی راستبازی اور تقویٰ کے ہتھیاروں سے محفوظ رکھو۔یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ اس کے ضائع ہونے سے کچھ حرج نہ ہو بلکہ اگر یہ اندوختہ جاتا رہا تو ہلاکت ہے اور ہمیشہ کی زندگی سے محروم ہوجاؤ گے۔تنبیہ و انذار یاد رکھو یہ طاعون کے دن ہیں۔معلوم نہیں ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے شروع میں کیا ہو؟ جہاں تک خدا نے مجھ پر ظاہر کیا ہے میں دیکھتا ہوں کہ بہت خطرناک دن آنے والے ہیں۔اس لیے ہر ایک شخص جو چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے محفوظ رہے وہ اسی وقت سے طیاری کرے۔جب تک غضبِ الٰہی نازل نہیں ہوتا اور اس کے آثار نمودار نہیں ہوتے تو ہر شخص واجب الرحم ہوتا ہے لیکن جب آثار نمودار ہو جاویں پھر عذاب نہیں ٹلتا۔بہت سے لوگ بیباک اور جرأت کرنے والے ہوتے ہیں۔وہ شوخی سے کہہ دیتے ہیں کہ صدہا وبائیں بَلائیں