ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 308

سے وہ گذرتا تھا اس کو ریاکار اور فریبی کہا کرتے تھے۔ایک عرصہ تک اس کی حالت ایسی ہی رہی۔آخر اس نے سوچا کہ اس طریق سے کوئی فائدہ تو نہیں ہوا بلکہ حالت بدتر ہی ہوئی ہے اس لیے اس کو چھوڑ دینا چاہیے۔پس اس نے چھوڑ دیا اور ملامتی فرقہ کا سا طریق اختیار کر لیا۔مسلمانوں میں ملامتی ایک فرقہ ہے جو اپنی نیکیوں کو چھپاتا ہے اور بدیوں کو ظاہر کرتا ہے تاکہ لوگ انہیں بُرا کہیں۔اسی طرح پر وہ اپنی نیکیوں کو چھپانے لگا اور اندر ہی اندر اللہ تعالیٰ سے سچی محبت کرنے لگا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لکھا ہے کہ جس کوچہ سے گذرتا عام لوگ اور بچے بھی اسے کہتے کہ بڑا نیک ہے، ولی ہے، بزرگ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا مشک اور عطر کی طرح ہے جو کسی طرح پر چھپ نہیں سکتا یہی تاثیریں ہیں سچی توبہ میں۔جب انسان سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔پھر اسے نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے۔اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔خدا اس کے دوستوں کا دوست اور اس کے دشمنوں کا دشمن ہوجاتا ہے اور وہ تقدیر جو شامتِ اعمال سے اس کے لیے مقرر ہوتی ہے وہ دور کی جاتی ہے۔اس اَمر کے دلائل بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ انسان اپنی اس مختصر زندگی میں بَلاؤں سے محفوظ رہنے کا کس قدر محتاج ہے اور چاہتا ہے کہ ان بَلاؤں اور وباؤں سے محفوظ رہے جو شامتِ اعمال کی وجہ سے آتی ہیں اور یہ ساری باتیں سچی توبہ سے حاصل ہوتی ہیں۔پس توبہ کے فوائد میں سے ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا حافظ اور نگران ہوجاتا ہے اور ساری بَلاؤں کو خدا دور کر دیتا ہے اور ان منصوبوں سے جو دشمن اس کے لیے تیار کرتے ہیں ان سے محفوظ رکھتا ہے اور اس کا یہ فضل اور برکت کسی سے خاص نہیں بلکہ جس قدر بندے ہیں خدا تعالیٰ کے ہی ہیں۔اس لیے ہر ایک شخص جو اس کی طرف آتا ہے اور اس کے احکام اور اوامر کی پیروی کرتا ہے وہ بھی ویسا ہی ہوگا جیسے وہ شخص جو توبہ کر چکا ہے۔وہ ہرایک سچی توبہ کرنے والے کو بَلاؤں سے محفوظ رکھتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔پس یہ توبہ جو آج اس وقت کی گئی ہے یہ مبارک اور عید کا دن ہے۔اور یہ عید ایسی عید ہے جو کبھی میسر نہیں آئی ہوگی۔