ملفوظات (جلد 6) — Page 310
اور ہیضے وغیرہ آتے ہیں۔ایسا ہی طاعون بھی ہے لیکن یہ ان کی بد بختی اور شقاوت ہے جو ایسی جرأت پیدا ہوتی ہے وہ نہیں جانتے کہ یہ بُرے دنوں کی نشانی ہے۔جب بَلائیں دنیا میں آتی ہیں اور دنیا کو تباہ کرتی ہیں تو شامتِ اعمال سے ہی آتی ہیں۔ہمیشہ سے گناہ ہوتا آیا ہے اور ہمیشہ ان صورتوں میں ہی عذاب اور بَلا آئی ہے اور ان گناہوں کے بدلے میں سزا دی گئی ہے۔پھر یہ شوخی اچھی نہیں۔اس کا نتیجہ بہت ہی بُرا ہے۔یہ وقت تو ایسا ہے کہ خدا سے صلح کرو اور پاک تبدیلی کرو۔نہ یہ کہ شوخی و شرارت سے پیش آؤ۔یاد رکھو یہ طاعون ایک خطرناک عذابِ الٰہی ہے جو اس وقت نازل ہوا ہے اس کو حقیر مت سمجھو۔اس کا انجام اچھا نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی کتابوں میں یہ ایک نشان مقرر کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کے نشانوں کو جو شخص حقارت سے دیکھتا ہے وہ نقصان اٹھاتا ہے۔میں کھول کھول کر بیان کرتا ہوں کہ اس عذاب سے مخلصی کے لیے سچی توبہ اور پاک تبدیلی کی ضرورت ہے اور بجز اس کے چارہ نہیں۔پس اسی وقت سے اس کے لیے طیاری کرو۔شوخیوں اور شرارتوں سے باز آجاؤ۔مسیح موعود کے زمانہ کے دو بڑے نشان میں یہ بات بھی بیان کرنی چاہتا ہوں کہ مسیح موعودؑ کے زمانہ کے بہت سے نشانوں میں سے دو بڑے نشان ہیں جن میں سے ایک آسمان پر ظاہر ہوگا اور دوسرا زمین پر۔آسمان کا نشان تو یہ تھا کہ اس کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں مقررہ تاریخوں پر سورج اور چاند گرہن ہوگا۔چنانچہ کئی سال گذرے یہ نشان پورا ہوگیا اور نہ صرف اس ملک میں بلکہ دوسری مرتبہ امریکہ میں بھی پورا ہوا۔دوسرا نشان یہی طاعون کا نشان تھا جو زمینی ہے۔یہ نشان بدن پر لرزہ ڈال دینے والا نشان ہے۔کئی سال سے یہ بَلا اس ملک میں نازل ہو رہی ہے مگر میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ ابھی تک غفلت اور بد مستی اسی طرح ترقی پر ہے۔میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر اس طاعون کی اس قدر شدت ہو جائے گی کہ دس میں سے سات مَر جائیں گے اور بعض