ملفوظات (جلد 6) — Page 292
سے اس کے چار نام مقرر کئے گئے ہیں۔اوّل اوّل نفس زکیہ ہوتا ہے کہ جس کو نیکی بدی کی کوئی خبر نہیں ہوتی اور یہ حالت طفلگی تک رہتی ہے۔پھر نفسِ امّارہ ہوتا ہے کہ بدیوں کی طرف ہی مائل رہتا ہے اور انسان کو طرح طرح کے فسق و فجور میں مبتلا کرتا ہے اور اس کی بڑی غرض یہی ہوتی ہے کہ ہر وقت بدی کا ارتکاب ہو۔کبھی چوری کرتا ہے۔کوئی گالی دے یا ذرا خلافِ مرضی کام ہو تو اسے مارنے کو تیار ہوجاتا ہے۔اگر شہوت کی طرف غلبہ ہو تو گناہوں اور فسق و فجور کا سیلاب بہہ نکلتا ہے۔دوسرا نفسِ لوّامہ ہے کہ اس میں بدیاں بالکل دور تو نہیں ہوتیں مگر ہاں ایک پچھتاوا اور حسرت و افسوس مرتکب اپنے دل میں محسوس کرتا ہے اور جب بدی ہو جاوے تو اس کے دل میں نیکی سے اس کا معاوضہ کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور تدبیر کرتا ہے کہ کسی طرح گناہ سے بچے اور دعا میں لگتا ہے کہ زندگی پاک ہوجاوے اور ہوتے ہوتے جب یہ گناہ سے پوتر ہوجاتا ہے تو اس کا نام مطمئنّہ ہوجاتا ہے اور اس حالت میں وہ بدی کو ایسی ہی بدی سمجھتا ہے جیسے کہ خدا بدی کو بدی سمجھتا ہے۔بات یہ ہے کہ دنیا اصل میں گناہ کا گھر ہے جس میں سر کشیوں میں پڑ کر انسان خدا کو بھلا دیتا ہے۔نفسِ امّارہ کی حالت میں تو اس کے پاؤں میں زنجیریں ہی زنجیریں ہوتی ہیں اور لوّامہ میں کچھ زنجیریں پاؤں میں ہوتی ہیں اور کچھ اتر جاتی ہیں مگر مطمئنہ میں کوئی زنجیر باقی نہیں رہتی سب کی سب اتر جاتی ہیں اور وہی زمانہ انسان کا خدا کی طرف پکے رجوع کا ہوتا ہے اور وہی خدا کے کامل بندے ہوتے ہیں جو کہ نفسِ مطمئنّہ کے ساتھ دنیا سے علیحدہ ہوویں اور جب تک وہ اسے حاصل نہ کرلے تب تک اسے مطلق علم نہیں ہوتا کہ جنت میں جاوے گا یا دوزخ میں۔پس جبکہ انسان بِلا حصولِ نفسِ مطمئنّہ کے نہ پوری پاکیزگی حاصل کر سکتا ہے اور نہ جنت میں داخل ہو سکتا ہے تو اب خواہ آریہ ہوں یا عیسائی کون سی عقلمندی ہے کہ قبل اس کے کہ یہ نفس حاصل ہو وہ بھیڑیوں اور بکریوں کو اکٹھا چھوڑ دیویں۔کیا ان کو امید ہے کہ وہ پاک اور بے شر زندگی بسر کر لیں گے۔یہ ہے سِر اسلامی پردہ کا۔اور میں نے خصوصیت سے اسے ان مسلمانوں کے لیے بیان کیا ہے جن کو اسلام کے احکام اور حقیقت کی خبر نہیں اور مجھے امید ہے کہ آریہ لوگ اس سے بہت کم مستفید ہوں گے کیونکہ ان کو تو اسلام کی ہر ایک بھلی بات سے چڑ ہے۔