ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 293

مسیح موعود کو ماننے کی ضرورت اس قدر تقریر ہو چکی تھی کہ اس اثنا میں خلیفہ رجب الدین صاحب نے بلند آواز سے لاہور کی پبلک کی طرف سے حضرت مرزا صاحب کو ماننے کی ضرورت کا سوال پیش کیا۔اگرچہ بعض لوگوں کو یہ دخل اس لیے ناگوار ہوا کہ خدا کا فرستادہ نورِ فراست سے جس ضرورت کو محسوس کر کے کلام فرما رہا تھا اس کی توجہ ادھر سے پھیر دی گئی۔لیکن ہمارے نزدیک یہ تحریک بھی مصالح ایزدی سے باہر نہیں۔آپ نے فرمایا کہ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ میں نے بہت سی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ سے یہ بات سمجھا دی ہوئی ہے کہ میں وہ مسیح ہوں جس کا ذکر اور وعدہ اجمالاً قرآن میں اور تفصیلاً احادیث میں پایا جاتا ہے اور جو لوگ اسے نہیں مانتے قرآن شریف کی رو سے ان کا نام فاسق ہے اور احادیث سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو اس مسیح کو نہیں مانتا وہ گویا مجھے نہیں مانتا اور جو اس کی معصیّت کرتا ہے گویا میری معصیّت کرتا ہے۔لوگ مخلوق کو دھوکا دیتے ہیں اور غلطیوں میں ڈالتے ہیں کہ ہم نے کوئی نیا کلمہ یا نماز تجویز کی ہے۔ایسے افتراؤں کا میں کیا جواب دوں۔اسی قسم کے افتراؤں سے وہ ایک عاجز انسان مسیح علیہ السلام کو تین خدا بنا بیٹھے ہیں۔دیکھو ہم مسلمان ہیں اور امت محمدیؐ ہیں اور ہمارے نزدیک نئی نماز بنانی یا قبلہ سے رو گردانی کفر ہے۔کل احکام پیغمبری کو ہم مانتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے حکم کو ٹالنا بھی بد ذاتی ہے۔اور ہمارا دعویٰ قال اللہ اور قال الرسول کے ماتحت ہے۔اتباعِ نبویؐ سے الگ ہو کر ہم نے کوئی کلمہ یا نماز یا حج یا ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد نہیں بنائی۔ہمارا کام یہ ہے کہ اس دین کی خدمت کریں اور اس کو کل مذاہب پر غالب کر کے دکھا دیں۔قرآن شریف کی اور احادیث کی جو پیغمبر خدا سے ثابت ہیں اتباع کریں۔ضعیف سے ضعیف حدیث بھی بشرطیکہ وہ قرآن شریف کے مخالف نہ ہو ہم واجب العمل سمجھتے ہیں اور بخاری اور مسلم کو بعد کتاب اللہ اَصَحُّ الکتب مانتے ہیں۔اور دوسری یہ بات یاد رکھو کہ مجھے کبھی بھی یہ خواہش نہیں ہوئی کہ لوگ مجھے مانیں بلکہ مجھے تو ان