ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 291

جوش اور تقاضے بعض اس قسم کے ہوتے ہیں کہ جب ان کو ذرا سی تحریک ہوئی تو جھٹ حد اعتدال سے ادھر ادھر ہوگئے۔اس لیے ضروری ہے کہ مرد اور عورت کے تعلقات میں حد درجہ کی آزادی وغیرہ کو ہرگز نہ دخل دیا جاوے۔ذرا اپنے دلوں میں غور کرو کہ کیا تمہارے دل راجہ رامچندر اور کرشن وغیرہ کی طرح پاک ہوگئے ہیں پھر جب وہ پاک دلی تم کو نصیب نہیں ہوئی تو بے پردگی کو رواج دے کر بکریوں کو شیروں کے آگے کیوں رکھتے ہو۔ہٹ اور ضد اور تعصّب اور چِڑ وغیرہ سے تم لوگ دیدہ و دانستہ اسلام کے ان پاکیزہ اصولوں کی مخالفت کیوں کرتے ہو جن سے تمہاری عفت برقرار رہتی ہے۔عقل تو اس بات کا نام ہے کہ انسان کو نیک بات جہاں سے ملے وہ لے لیوے کیونکہ نیک بات کی مثال سونے اور ہیرے اور جواہر کی ہے اور یہ اشیاء خواہ کہیں ہوں آخر وہ سونا وغیرہ ہی ہوں گی۔اس لیے تم کو لازم ہے کہ اسلام کے نام سے چڑ کر تم نیکی کو ترک نہ کرو ورنہ یاد رکھو کہ اسلام کا تو کچھ حرج نہیں ہے اگر اس کا ضرر ہے تو تم ہی کو ہے۔ہاں اگر تم لوگوں کو یہ اطمینان ہے کہ سب کے سب بھگت بن گئے ہو اور نفسانی جذبات پر تم کو پوری قدرت حاصل ہے اور قوائے پرمیشر کی رضا اور احکام کے برخلاف بالکل حرکت نہیں کرتے تو پھر ہم تم کو منع نہیں کرتے۔بیشک بے پردگی کو رواج دو لیکن جہاں تک میرا خیال ہے ابھی تک تم کو وہ حالت نصیب نہیں اور تم میں سے جس قدر لوگ لیڈر بن کر قوم کی اصلاح کے در پے ہیں۔ان کی مثال سفید قبر کی ہے جس کے اندر بجز ہڈیوں کے اور کچھ نہیں کیونکہ انکی صرف باتیں ہی ہیں۔عمل وغیرہ کچھ نہیں۔نفسِ انسانی کی چار حالتیں اسلام نے جو یہ حکم دیا ہے کہ مرد عورت سے اور عورت مرد سے پردہ کرے اس سے غرض یہ ہے کہ نفس انسان پھسلنے اور ٹھوکر کھانے کی حد سے بچا رہے کیونکہ ابتدا میں اس کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ بدیوں کی طرف جھکا پڑتا ہے اور ذرا سی بھی تحریک ہو تو بدی پر ایسے گرتا ہے جیسے کئی دنوں کا بھوکا آدمی کسی لذیذ کھانے پر۔یہ انسان کا فرض ہے کہ اس کی اصلاح کرے اور اس کی اصلاح کی حالتوں کے لحاظ