ملفوظات (جلد 6) — Page 256
نے تم سے کوئی ایسا عظیم الشان کام لینا ہوتا تو تمہارا رِئَۃ۱ اور دماغ اچھا بناتا مگر یہ مصلحتِ الٰہی ہے کہ وہ اچھا نہیں بنایا گیا بلکہ کمزور بنایا گیا ہے۔ع ہر کسے را بہر کارے ساختند تم اپنے آپ کو خوش باش رکھو اور خدا کی منشا کے خلاف نہ کرو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ(بنی اسـرآءیل:۸۵) ہر ایک شخص کرتا اور کر سکتا ہے، مگر اپنی بناوٹ پر۔مثلاً ایک شخص کو تھوڑا ہی صدمہ دیکھ کر غشی لاحق ہو جاتی ہے۔اب اس کو میدانِ جنگ میں تلوار دے کر بھیجا جاتا ہے کیا وہ صرف بندوقوں کی آوازیں سن کر ہی نہ مَر جاوے گا۔میں نے خود قادیان میں ایک شخص کو دیکھا ہے کہ اگر وہ بکرا ذبح ہوتا ہوا دیکھ لیتا تو اس کو غش ہو جاتا تو اگر قصاب کا کام اس کے سپرد کیا جاتا تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا؟ آپ ارادہ کرتے ہیں اختلاف مٹانے کا اور دماغ اور رِئَۃ آپ کا بہت خراب ہے۔ایسا نہ ہو کہ بیماری مہلک ہو کر تمہارے اپنے اندر ہی اختلاف پیدا ہوجاوے۔انسانی قویٰ تو بیشک ہر شخص کو ملے ہیں مگر مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ دھوکا نہیں کھاتا۔پس آپ پر اس محنت کا پہلے بد اثر ہوچکا ہے آپ کم سے کم پہلے تمام ڈاکٹروں سے دریافت کر لیں کہ آپ اس محنت کے قابل ہیں یا نہیں۔میں تو بمصداق اَلْمُسْتَشَارُ مُؤْتَـمَنٌ کے ایک امین اور مشفق ناصح ہو کر آپ کو صلاح دیتا ہوں کہ آپ کے قویٰ ایسے نہیں کہ اس محنت کو برداشت کر سکیں۔دوزخ کے سات دروازے ہیں اور بہشت کے آٹھ جس رنگ سے اللہ تعالیٰ چاہے یقین عطا فرما دیوے۔صحابہ کرامؓ نے علوم فلسفہ وغیرہ کہاں پڑھے تھے۔جو اسرارِ الٰہی طبعیات اور فلسفہ وغیرہ میں بھرے پڑے ہیں جو شخص ان سب کو طے کرنا چاہتا ہے وہ جاہل اور بے نصیب رہے گا۔مثلاً آگ گرم اور مہلک ہے۔اس بات کو تو ہر شخص دریافت کر سکتا ہے پر جب اس کے دل میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیوں گرم ہے اور کیوں مہلک ہے تو یہاں فلسفہ ختم ہوجاوے گا۔پس اسرارِ الٰہیہ کو حد تک کوئی نہیں پہنچا سکتا۔؎ تو کارِ زمین کے نکو ساختی کہ با آسمان نیز پرداختی ۱ رِئَۃ پھیپھڑے کو کہتے ہیں (مرتّب)