ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 257

پہلے ضرور ہے کہ اپنے گھر اور نفس کی صفائی کرو بعد میں لوگوں کی طرف توجہ کرنا۔دنیا میں چار موٹی باتیں ماننے کے قابل ہیں۔ملا۱ئکہ، رو۲حِ انسانی اور اس کا بقا بعد از مَرگ۔جِنّا۳ت کا وجود۔خدا۴ تعالیٰ کا وجود۔لوگوں نے سب سے پہلے جِنّات کا انکار کیا۔پھر ملائکہ کا۔پس دو باتوں کو اڑا کر اپنی اور خدا کی روح کے قائل ہو بیٹھے یعنی کچھ کرنا اور کچھ نہ کرنا اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ(البقرۃ:۸۶) اس میں پھر دہریوں نے ہی کمال کیا ہے کہ کچھ بھی نہ مانو اور سب کا انکار کرو۔منشی صاحب مذکور نے سوال کیا کہ قرآن کریم میں بہت سارے لفظ زائد ہوتے ہیں اور ان کے معنے نہیں کیے جاتے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔فرمایا۔قرآن کریم بلکہ ہر زبان میں قرائن ہوتے ہیں اور یہ ایسے بہت سارے محاورے ہوتے ہیں۔آپ کو صرف و نحو سے واقفیت نہیں۔منشی صاحب نے کہا کہ میں نے صرف و نحو کو خوب پڑھا ہے۔فرمایا۔موجودہ مروّجہ صرف و نحو ناقص ہے اور آپ نے صرف و نحو کو کمال تک بھی نہیں پہنچایا۔ہرایک زبان کا ایک خاص محاورہ ہوتا ہے جب تک انسان کی مادری زبان نہ ہو یا اس زبان میں اتنا کمال نہ ہو کہ مشبہ بہ مادری ہو جاوے تب تک وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔پس اس اَمر کو واقفانِ زبان سے دریافت کرو اور دیکھو قومی محاورات میں کوئی اہلِ علم اعتراض نہیں کر سکتا۔پھر سوال کیا کہ بعض لفظ لکھنے میں آتے اور پڑھنے میں نہیں آتے۔فرمایا۔انگریزی زبان ہی کو لے لو اس میں بھی بہت ایسے لفظ ہیں جو لکھنے میں تو آتے پر پڑھنے میں نہیں آتے۔میں پھر بھی کہوں گا کہ آپ کو صرف و نحو کی واقفیت بالکل نہیں۔یہ باتیں عمر کھا کے حاصل ہوتی ہیں۔آپ کی عمر اس وقت آرام چاہتی ہے اور خیال آپ کو یہ لگ گیا ہے۔پھر مجھے اس بات کا بھی ڈر ہے کہ کہیں آپ یہ نہ کہہ دیں کہ مجھے قرآن کی خدمت سے روک دیا ہے۔بہرحال میں تو