ملفوظات (جلد 6) — Page 255
ورنہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ راستی کو دریافت کر کے ناراستی کو چھوڑ دیتے مگر یہاں ضد، تعصّب اور ہٹ دھرمی ماننے نہیں دیتی۔مکھیاں شہد بناتیں، ریشم کا کیڑا ریشم بناتا، موتی کا کیڑا موتی بناتا، بیل، گھوڑے، گائے، جونک وغیرہ ہر ایک چیز انسان کے واسطے فائدہ مند ہے۔اگر سب چیزیں اتفاقی ہیں اور خدا تعالیٰ نے حکمت سے پیدا نہیں کیں تو پھر ایک وقت پر اپنا جنم پورا کر کے کُل گائیں، کُل مکھیاں، کُل گھوڑے وغیرہ سب جانور انسان بن جانے چاہئیں تو پھر یہ چیزیں اور نعمتیں ایک وقت آنے پر دنیا سے نابود ہوجانی چاہئیں مگر جب تک انسان موجود ہے ان چیزوں کی اشد ضرورت ہے۔پانی اور ہوا میں بھی کیڑے ہیں۔پھلوں اور اناجوں میں بھی کیڑے ہیں۔جن کے بغیر انسان کبھی زندہ نہیں رہ سکتا۔پس یا تو تناسخ مانو یا خدا کی حکمت مانو مگر چونکہ انسان کا ان چیزوں کے سوائے گذارہ ہرگز نہیں ہوسکتا ہے معلوم ہو اکہ یہ ساری پیدائش حکمتِ الٰہی پر مبنی ہے۔والسلام۱ ۱۸؍جولائی ۱۹۰۴ء (بمقام گورداسپور) كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ مہر نبی بخش المعروف عبد العزیز نمبردار بٹالہ نے عرض کیا کہ میں علاقہ بار سے صرف اس خیال پر آیا ہوں کہ ایک تفسیر قرآن لکھوں جس سے لوگوں کے شکوک اور غلط معانی کی اصلاح کروں۔اگر آپ مجھے امداد دیں تو میں موجودہ ثابت شدہ فلسفہ کے مطابق ترجمہ کر کے دکھلاؤں۔فرمایا۔ہمارا مشرب تو کسی سے نہیں ملتا۔ہم تو جو کچھ خدا سے پاتے ہیں خواہ اس کو عقل اور فلسفہ مانے یا نہ مانے ہم اس کو ضرور مانتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں البتہ اہلِ عقل سے جو لوگ عقل کی پیروی کرتے ہیں وہ آپ کی اس بات پر توجہ کریں تو خوب ہے۔آپ مولوی نور الدین صاحب سے مشورہ لیں۔آجکل تراجم کثرت سے شائع ہو رہے ہیں کہ مروّجہ فلسفہ کی پیروی میں شائع ہوتے ہیں مگر ہمارا مذہب یہ نہیں ہے۔پر میں تم کو ایک نصیحت کرتا ہوں اس کو ضرور غور سے سن لو۔اگر خدا تعالیٰ ۱ الحکم جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲