ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 254

تو کس طرح معلوم ہو کہ یہ دوسرا جنم لے کر آیا ہے۔اگر صرف اس کمی بیشی کو پورا کرنے کے واسطے جنم ماننا ہے تو ہم یوں کیوں نہ مان لیں کہ جس طرح یہاں تکلیف اٹھاتا ہے اسی طرح۱ وہ خدا تعالیٰ اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ عطا نہیں کر سکتا مثلاً دیانند مَر گیا ہے۲ آجاوے تو ہم اس کو اس طرح شناخت کر سکیں گے کہ ستیارتھ پرکاش یا وید کا کچھ حصّہ ہمیں پڑھ کر سنا دیوے۔پڑھا ہوا آدمی تو اگر بھینس کی شکل میں بھی آجاوے تو چاہیے کہ وہ بھینس بھی طوطے کی طرح بولے۔ہاں صوفیوں نے بھی یہ لکھا ہے۔؎ ہمچو سبزہ بارہا روئیدہ ام ہفت صد ہفتاد قالب دیدہ ام مگر اس کے کچھ اور معنے ہیں۔یعنی جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف ترقی کرنے لگتا ہے تو پہلے اس کی حالت بہت ابتر ہوتی ہے جس طرح ایک بچہ آج پیدا ہوا ہے تو اس میں صرف دودھ چوسنے ہی کی طاقت ہوتی ہے اور کچھ نہیں۔پھر جب غذا کھانے لگتا ہے تو آہستہ آہستہ غصہ، کینہ، خود پسندی، نخوت علیٰ ہذا القیاس سب باتیں اس میں ترقی کرتی جاتی ہیں اور دن بدن جوں جوں اس کی غذائیت بڑھتی جاتی ہے شہوات اور طرح طرح کے اخلاقِ ردیّہ اور اخلاقِ فاضلہ زور پکڑتے جاتےہیں اور اسی طرح ایک وقت پر اپنے پورے کمال انسانی پر جا پہنچتا ہے اور یہی اس کے جسمانی جنم ہوتے ہیں۔یعنی کبھی کتے، کبھی سؤر، کبھی بندر، کبھی گائے، کبھی شیر وغیرہ جانوروں کے اخلاق اور صفات اپنے اندر پیدا کرتا جاتا ہے گویا کل مخلوقات الارض کی خاصیت اس کے اندر ہوتی جاتی ہے۔اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ سلوک کا راستہ چاہے گا تو یہ ساری خاصیتیں اس کو طے کرنی پڑیں گی اور یہی تناسخ اصفیا نے مانا ہے اور اس کا اسلام اور ان کا قرآن بھی اقراری ہے۔غالباً یہی تناسخ ہنود میں بھی تھا مگر بے علمی سے دھوکا لگ گیا اور سمجھ الٹی ہوگئی۔مگر دنیا میں جس بات کو کوئی شخص مان بیٹھا ہے وہ اس کو چھوڑ نہیں سکتا ۱ البدرمیں یہ فقرہ یوں درج ہے۔’’اسی طرح کیا وہ خدا تعالیٰ اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ عطا نہیں کر سکتا۔‘‘ (البدر جلد ۳ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۶؍جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۷) ۲ البدر میں ہے۔’’اگر آجاوے۔‘‘ (البدر جلد ۳ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۶؍جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۷)