ملفوظات (جلد 6) — Page 253
جبکہ وہ رحم کرنے والا ہے تو کسی کو کسی طرح اور کسی کو کسی طرح بدلہ دیتا اور دیتا رہے گا۔پس اپاہج اور اندھے وغیرہ کو اپنی ان نقائص ِخلقت کا بدلہ قیامت میں مل جاوے گا۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص شاہی گھر میں پیدا ہوا ہے اور سارے سامان عیش و نشاط مہیا ہیں پر وہ باریک در باریک دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہے اور وہ شخص جو گدائی اور فقیری حیثیت میں بھیک مانگتا پھرتا ہے ایسے سُکھوں میں ہو کہ جو اس امیر زادے کو کبھی میسر نہیں۔پھر کیا کہیں دولت والے کو یہ حکم دیا ہے کہ اس سے عیاشی کر بلکہ یہ حکم دیا ہے کہ غریب بھائی کی طرح عبادت کر۔بہرحال یہ دنیا چند روزہ ہے انسان کیا سمجھتا ہے کہ میری عمر کس قدر ہے۔عقیدہ تناسخ جنم کی شکی بات کو قبول کرنا عقل کا کام ہرگز نہیں۔انسان جب پیدا ہوتا اور اپنی عمر طبعی پوری کر کے مَر جاتا ہے تو کبھی کسی نے اس شخص کو اس جہان میں واپس آتے ہوئے نہیں دیکھا۔مثلاً بڑے بڑے عالِم اور فاضِل مَر جاتے ہیں تو انہوں نے واپس آکر کبھی نہیں بتلایا کہ میں نے پچھلے جنم میں فلاں علم حاصل کیا تھا۔ہزاروں جنم پائے اور علم و عمل حاصل کرتا رہا۔مگر جب واپس آیا وہ پہلے علم و عمل ضائع ہوتے رہے۔جس طرح وہ واپس آکر سب علوم بھلا دیتا بلکہ یہاں کا پہلا آنا بھی اس کو یاد نہیں رہتا تو وہ وہاں کیا یاد رکھے گا اور نجات کس طرح حاصل کرے گا۔جو لوگ تناسخ کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ مکتی گیان سے ہوگی مگر کروڑ دفعہ کے جنم سے ایک حرف تک ان کو یاد نہیں رہتا اور جب آتا ہے خالی ہاتھ ہی آتا ہے کچھ تو ساتھ لاوے۔اگر کچھ بھی ساتھ نہیں لاتا تو گیان کیا ہوا۔غرض جس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کے ہاتھ پاؤں سرد ہوگئے ہیں۔دَم بند ہوگیا ہے۔آنکھیں پتھرا گئی ہیں اور روح رخصت ہوگیا ہے اسی طرح تم اس کے واپس آنے کا ثبوت پیش کرو تو ہم مان لیتے ہیں۔واپس آنے کا ثبوت تو یہی تھا کہ اپنے کسی گیان کو ساتھ لے آتا۔مگر یہ بیہودہ خیال ہے کہ وہ کسی گیان کو ساتھ لاوے۔پس بغیر ثبوت کے ہم کیسے مان سکتے ہیں۔بڑا مولوی اور بڑا پنڈت بن کر اس جگہ سے رخصت ہوا تھا واپس آکر کچھ بھی یاد نہیں۔جب وہاں جاکر سب کچھ بھول آتا ہے