ملفوظات (جلد 6) — Page 226
وقت خانہ کعبہ میں بغرض نماز آتے ہیں۔یہ وقت عمدہ سمجھ کر حضرت عمرؓ سرِ شام خانہ کعبہ میں جاچھپے۔آدھی رات کے وقت جنگل میں سے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کی آواز آنی شروع ہوئی۔حضرت عمرؓ نے ارادہ کیا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گریں تو اس وقت قتل کروں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے درد کے ساتھ مناجات شروع کی اور سجدہ میں اس طرح حمد الٰہی کا ذکر کیا کہ حضرت عمر کا دل پسیج گیا۔اس کی ساری جرأت جاتی رہی اور اس کا قاتلانہ ہاتھ سست ہوگیا۔نماز ختم کر کے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر کو چلے تو ان کے پیچھے حضرت عمرؓ ہوگئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آہٹ پاکر دریافت کیا اور معلوم ہونے پر فرمایا کہ اے عمر کیا تو میرا پیچھا نہ چھوڑے گا۔حضرت عمرؓ بد دعا کے ڈر سے بول اٹھے کہ حضرت میں نے آپ کے قتل کا ارادہ چھوڑ دیا۔میرے حق میں بد دعا نہ کیجئے گا چنانچہ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ وہ پہلی رات تھی جب مجھ میں اسلام کی محبت پیدا ہوئی۔سو میرے نزدیک شقُّ القمر کا معجزہ ایسا زبردست معجزہ نہیں جیسے رسول پاکؐکی استقامت ایک معجزہ ہے۔اس میں شک نہیں کہ ضرورتِ وقت کے لحاظ سے انبیاء علیہم السلام معجزہ دکھلاتے ہیں اور وہ نور و ہدایت اپنے اندر رکھتے ہیں لیکن ان سب معجزات سے بڑھ کر استقامت ایک معجزہ ہے۔آج چوبیس سال مجھ پر گذر گئے جب میں نے دعویٰ وحی و الہام کیا۔جو لوگ میرے پاس رات دن بیٹھتے ہیں وہ دیکھتے ہیں اور گواہ اس بات کے ہیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ ہر روز مجھے اپنے کلام سے مشرف کرتا ہے اور کس طرح جو مجھ پر ظاہر کیا جاتا ہے وہ پورا ہوتا ہے۔اب کیا میں ہر روز افترا کرتا ہوں اور خدا تعالیٰ بھی اس قدر صابر ہے کہ ایسے مفتری کو مہلت دے رہا ہے۔پیغمبر صاحب کو تو یہ حکم کہ اگر تو ایک افترا مجھ پر باندھتا تو میں تیری رگ گردن کاٹ دیتا جیسے کہ آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْل لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ(الـحاقۃ: ۴۵تا۴۷) سے ظاہر ہوتا ہے اور یہاں چوبیس سال سے روزانہ افترا خدا پر ہو اور خدا اپنی سنّتِ قدیمہ کو نہ برتے۔بدی کرنے میں اور جھوٹ بولنے میں کبھی مداومت اور استقامت نہیں ہوتی۔آخر کار انسان دروغ کو چھوڑ ہی دیتا ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے یہ ملفوظات ۲۳؍ ستمبر ۱۹۰۳ء کی ڈائری میں چھپ چکے ہیں۔