ملفوظات (جلد 6) — Page 227
ہے لیکن کیا میری ہی فطرت ایسی ہو رہی ہے کہ میں چوبیس سال سے اس جھوٹ پر قائم ہوں اور برابر چل رہا ہوں اور خدا تعالیٰ بھی بالمقابل خاموش ہے اور بالمقابل ہمیشہ تائیدات پر تائیدات کر رہا ہے۔پیشگوئی کرنا یا علم غیب سے حصّہ پانا کسی ایک معمولی ولی کا بھی کام نہیں یہ نعمت تو اس کو عطا ہوتی ہے جو حضرتِ احدیت مآب میں خاص عزّت اور وجاہت رکھتا ہے۔اب دیکھ لیا جاوے کہ خدا تعالیٰ نے کس قدر پیشگوئیاں میرے ہاتھ پر پوری کیں۔براہین احمدیہ اور اس میں جو میرے آئندہ حالات درج ہیں ان کو دیکھا جاوے اور پھر میرے آج کل کے حالات کو دیکھا جاوے کہ وہ تمام کس طرح پورے ہوئے پھر جو جو نشانات مسیح موعود کے زمانہ کے آثار ہیں موجود ہیں وہ کس طرح اس زمانہ میں پورے ہوگئے۔رمضان میں کسوف خسوف کا ہونا، ریل کا جاری ہوکر اونٹنیوں کا حجاز میں بھی بند ہوجانا، طاعون کا نمودار ہونا یہ سب علامات ہیں جو زمانہ مہدی کے ساتھ مختص ہیں یہ خدا نے کیوں پورے کیے؟ کیا ایک کذّاب اور مفتری علی اللہ کی رونق افزائی کے لیے جو چوبیس سال سے برابر افترا باندھ رہا ہے۔آخر میں میں یہ وصیت کرتا ہوں کہ عمر کا کوئی بھروسہ نہیں۔یہ وقت ہے اس کو غنیمت سمجھا جاوے۔یہ خدا تعالیٰ کے نشان ہیں۔ا ن سے منہ موڑنا خدا تعالیٰ کی حکم عدولی ہے۔دیکھو! ایک مجازی حاکم کا پیادہ اگر آجاوے اور پیادہ جس حکم کو لاتا ہے اس کی پروا نہ کی جاوے تو پھر یہ حکم عدولی کیسے بد نتائج پیدا کرتی ہے چہ جائیکہ خدا تعالیٰ کی حکم عدولی۔دنیا میں جب کبھی کوئی خدا کا مرسل آوے گا وہ انسان ہی ہوگا۔اس کے اوضاع و اطوار انسانوں والے ہی ہوں گے آخر فرشتہ کو تو نہیں آنا۔یہ لوگ اس کے لوازم انسانیت سے گھبرا جاتےہیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے ایک حجاب ہے جو اس کے جامہء نبوت کو چھپائے ہوئے ہے لیکن یہ حجاب ضروری ہے جس میں ہر ایک نبی مستور ہوتا ہے۔مبارک ہے وہ جو اس حجاب کے اندر اس شخص کو دیکھ لے۔۱ ابتدائے جون ۱۹۰۴ء (بمقام گورداسپور)