ملفوظات (جلد 6) — Page 206
طرح مَر جاتے ہیں لیکن مومن کا معاملہ دگر گوں ہے۔مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ جو صلحاء اور انبیاء کی زندگی آئے دن طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا رہتی ہے اور بعض وقت ان کو خوفناک امراض لاحق ہوجاتے ہیں جیسے کہ ہمارے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت تھی۔یہ اس تردّد کا اظہار ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے گویا اللہ تعالیٰ اس سے معاملہ ایسا کرتا ہے اور خوفناک بیماریوں سے اسے نجات دے کر ظاہر کردیتا ہے کہ وہ اسے معمولی انسانوں کی طرح ضائع نہیں کرتا۔قرآن اور حدیث سے ثابت ہے کہ مومن کی ہر ایک چیز بابرکت ہوجاتی ہے جہاں وہ بیٹھتا ہے وہ جگہ دوسروں کے لیے موجب برکت ہوتی ہے۔اس کا پس خوردہ اَوروں کے لیے شفا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ ایک گنہگار خدا تعالیٰ کے سامنے لایا جاوے گا۔خدا تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کوئی نیک کام کیا؟ وہ کہے گا کہ نہیں۔پھر خدا تعالیٰ اس کو کہے گا کہ فلاں مومن کو تو ملا تھا۔وہ کہے گا خداوند میں ارادتاً تو کبھی نہیں ملا وہ خود ہی ایک دن مجھے راستہ میں مل گیا۔خدا تعالیٰ اسے بخش دے گا۔پھر ایک اور موقع پر حدیث میں آیا ہے کہ خدا تعالیٰ فرشتوں سے دریافت کرے گا کہ میرا ذکر کہاں پر ہو رہا ہے؟ وہ کہیں گے کہ ایک حلقہ مومنین کا تھا جہاں دنیا کے ذکر کا نام و نشان بھی نہ تھا۔البتہ ذکر الٰہی آٹھوں پہر ہو رہا ہے۔ان میں ایک دنیا پرست شخص تھا۔اللہ تعالیٰ فرماوے گا کہ میں نے اس دنیا دار کو اس ہم نشینی کے باعث بخش دیا اِنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ۔بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ جہاں ایک مومن امام ہو اس کے مقتدی پیش ازیں کہ وہ سجدہ سے سر اٹھاوے بخش دیئے جاتے ہیں۔مومن وہ ہے کہ جس کے دل میں محبتِ الٰہی نے عشق کے رنگ میں جڑ پکڑ لی ہو۔اس نے فیصلہ کر لیا ہو کہ وہ ہر ایک تکلیف اور ذلّت میں بھی خدا کا ساتھ نہ چھوڑے گا۔اب جس نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کب کسی کا کانشنس کہتا ہے کہ وہ ضائع ہوگا کیا کوئی رسول ضائع ہوا؟ دنیا ناخنوں تک ان کو ضائع کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن وہ ضائع نہیں ہوتے جو خدا کے لیے ذلیل ہو وہی انجام کار عزّت و جلال کا تخت نشین ہوگا۔ایک ابو بکرؓ ہی کو دیکھو جس نے سب سے پہلے ذلّت قبول کی اور