ملفوظات (جلد 6) — Page 207
سب سے پہلے تخت نشین ہوا۔اس میں کچھ شک نہیں کہ پہلے کچھ نہ کچھ دکھ اٹھانا پڑتا ہے کسی نے سچ کہا ہے۔؎ عشق اوّل سرکش و خونی بود تا گریزد ہرکہ بیرونی بود عشقِ الٰہی بے شک اوّل سرکش و خونی ہوتا ہے تاکہ نااہل دور ہوجاوے۔عاشقانِ خدا تکالیف میں ڈالے جاتےہیں۔۱ قسم قسم کے مالی اور جسمانی مصائب اٹھاتے ہیں اور اس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ ان کے دل پہچانے جاویں۔خدا تعالیٰ نے یہ اَمر مقرر کر دیا ہے کہ جب تک کوئی پہلے دوزخ پر راضی نہ ہو جاوے بہشت میں نہیں جاتا۔بہشت دیکھنا اسی کو نصیب ہوتا ہے جو پہلے دوزخ دیکھنے کو تیار ہوتا ہے۔دوزخ سے مراد آئندہ دوزخ نہیں بلکہ اس دنیا میں مصائب شدائد کا نظارہ مراد ہے۔اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ کافر کے لیے دوزخ بہشت کے رنگ میں اور مومن کے لیے بہشت دوزخ کے رنگ میں متمثّل کیا جاتا ہے۔کافر جو دنیا کا طالب ہے دنیا میں منہمک ہو کر سگِ دنیا ہو جاتا ہے۔مومن ایک عاشق ہے جو دنیا کو طلاق دے کر ہر ایک تکلیف سہنے کو تیار ہوتا ہے اور فی الواقع یہ عشق ہی ہے جو اسے ہر قسم کی تکلیف سہنے کے لیے آمادہ کر دیتا ہے۔مومن کا رنگ عاشق کا رنگ ہوتا ہے اور وہ اپنے عشق میں صادق ہوتا ہے اور اپنے معشوق یعنی خدا کے لیے کامل اخلاص اور محبت اور جان فدا کرنے والا جوش اپنے اندر رکھتا ہے اور تضرع اور ابتہال اور ثابت قدمی سے اس کے حضور میں قائم ہوتا ہے۔دنیا کی کوئی لذّت اس کے لیے لذّت نہیں ہوتی۔اس کی روح اسی عشق میں پرورش پاتی ہے۔معشوق کی طرف سے استغنا دیکھ کر وہ گھبراتا نہیں۔اس طرف سے خاموشی اور بے التفاتی بھی معلوم کر کے وہ کبھی ہمّت نہیں ہارتا بلکہ ہمیشہ قدم آگے ہی رکھتا ہے اور دردِ دل زیادہ سے زیادہ پیدا کرتا جاتا ہے۔ان دونوں چیزوں کا ہونا ضروری ہے کہ مومن عاشق کی طرف سے محبتِ الٰہی میں پورا استغراق ہو۔عشق کمال ہو۔محبت میں سچا جوش اور عہد عشق میں ثابت قدمی ایسی کوٹ کوٹ کے بھری ہو کہ جس کو کوئی صدمہ جنبش میں لا نہ سکے اور معشوق کی طرف سے کبھی کبھی بے پروائی اور خاموشی ہو۔درد دو قسم کا موجود ہو۔ایک تو وہ جو اللہ تعالیٰ کی محبت کا درد ہو۔دوسرا وہ جو کسی کی مصیبت پر دل میں درد