ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 205

حلاوت پیدا ہوجائے۔سب سے عمدہ دعا یہ ہے کہ خدا کی رضامندی اور گناہوں سے نجات حاصل ہو کیونکہ گناہوں ہی سے دل سخت ہوجاتا اور انسان دنیا کا کیڑا بن جاتا ہے۔ہماری دعا یہ ہونی چاہیے کہ خدا تعالیٰ ہم سے گناہوں کو جو دل کو سخت کر دیتےہیں دور کر دے اور اپنی رضامندی کی راہ دکھلائے۔دنیا میں مومن کی مثال اس سوار کی ہے کہ جو جنگل میں جا رہا ہے اور راہ میں بسبب گرمی اور تکانِ سفر کے ایک درخت کے نیچے سستانے کے لیے ٹھہر جاتا ہے لیکن ابھی گھوڑے پر سوار ہے اور کھڑا کھڑا گھوڑے پر ہی کچھ آرام لے کر آگے اپنے سفر کو جاری رکھتا ہے لیکن جو شخص اس جنگل میں گھر بنالے وہ ضرور درندوں کا شکار ہوگا۔مومن دنیا کو گھر نہیں بناتا اور جو ایسا نہیں خدا اس کی پروا نہیں کرتا نہ خدا کے نزدیک دنیا کو گھر بنانے والے کی عزّت ہے۔خدا مومن کی عزّت کرتا ہے۔نوافل کی حقیقت حدیث میں آیا ہے کہ مومن نوافل کے ساتھ خدا کا قرب حاصل کرلیتا ہے۔نوافل سے مراد یہ ہے کہ خدمت مقرر کردہ میں زیادتی کی جاوے۔ہر ایک خیر کے کام میں دنیا کا بندہ تھوڑا سا کر کے سست ہوجاتا ہے لیکن مومن زیادتی کرتا ہے۔نوافل صرف نمازسے ہی مختص نہیں بلکہ ہر ایک حسنات میں زیادتی کرنا نوافل ادا کرنا ہے۔مومن محض خدا کی خوشنودی کے لیے ان نوافل کی فکر میں لگا رہتا ہے۔اس کے دل میں ایک درد ہے جو اسے بے چین کرتا ہے اور وہ دن بدن نوافل و حسنات میں ترقی کرتا جاتا ہے اور بالمقابل خدا بھی اس کے قریب ہوتا جاتا ہے حتی کہ مومن اپنی ذات کو فنا کر کے خدا کے سایہ تلے آتا جاتا ہے۔اس کی آنکھ خدا کی آنکھ، اس کے کان خدا کے کان ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ کسی معاملہ میں خدا کی مخالفت نہیں کرتا۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس کی زبان خدا کی زبان اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوجاتا ہے۔مومن کا مقام پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے کسی بات میں اس قدر تردّد نہیں ہوتا جس قدر مومن کی جان نکالنے میں تردّد ہوتا ہے۔یوں تو خدا کی ذات سب تردّدات سے پاک ہے لیکن یہ فقرہ جو فرمایا تو مومن کے اکرام کے لیے فرمایا۔اب دوسرے لوگ کیڑے مکوڑوں کی ۱ (از ریویو ) البدر جلد ۳ نمبر ۳۱ مورخہ ۱۶؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۵،۶