ملفوظات (جلد 6) — Page 200
سمجھا گیا۔خدا غیور ہے اور وہ اپنی غیرت دکھلائے گا۔ایک مجازی حاکم عدول حکمی پسند نہیں کرتا تو وہ احکم الحاکمین غیور خدا کب اس عدول حکمی کو بِلا سزا چھوڑے گا۔نئی سواری کا نشان ایک اور نشان اس زمانہ کا وہ نئی سواری تھی جس نے اونٹوں کو بیکار کر دینا تھا۔قرآن نے وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ(التکویر:۵) (جب اونٹنیاں بیکار ہوجاویں گی) کہہ کر اس زمانہ کا پتا بتلایا۔حدیث نے مسیح کے نشان میں یوں کہا لَیُتْـرَکُنَّ الْقِلَاصُ فَلَایُسْعٰی عَلَیْـھَا۔پھر یہ نشان کیا پورا نہ ہوا؟ حتی کہ اس سر زمین میں بھی جہاں آج تک اونٹنی کی سواری تھی اور بغیر اونٹنیوں کے گذارہ نہ تھا وہاں بھی اس سواری کا انتظام ہوگیا ہے اور چند سالوں میں اونٹوں کی سواری کا نام و نشان نہیں ملے گا۔اونٹنیاں بیکار ہوگئیں۔مقرر کردہ نشان پورے ہوگئے لیکن جس کا یہ نشان تھا وہ پہچانا نہ گیا۔کیا یہ امور بھی میرے اختیار میں تھے کہ ایک طرف تو میں دعویٰ کروں اور دوسری طرف یہ نشان پورے ہوتے جاویں۔کیا آسمانی نظام پر بھی میرا دخل ہے جو کسوف اور خسوف موعود کو پیدا کر لیتا یا میرے ہاتھ کوئی ایسے مواد ہیں جن سے زمین پر موعود طاعون پیدا ہوگئی یا حج کا روکنا جو یہ بھی مسیح کا نشان تھا کیا یہ بھی میرے اشارہ سے ہوا؟ اسی طرح بیسیوں نشان زمانہ مسیح کے ساتھ وابستہ تھے وہ سب پورے ہوگئے۔خدا تعالیٰ نے کون سی حجّت کو ان پر پورا نہیں کیا لیکن ان کا انکار ابھی اسی طرح ہے۔اصل بات یہ ہے کہ زمانہ میں دہریت پھیلی ہوئی ہے جو خفیہ خفیہ سب دلوں پر اثر کر رہی ہے۔خشیتِ الٰہی دن بدن مفقود ہو رہی ہے۔کان رکھتے ہیں پر سن نہیں سکتے۔آنکھیں رکھتے ہیں پر نہیں دیکھتے۔دل رکھتے ہیں پر نہیں سمجھتے۔یہی وجہ ہے کہ انکار ہے۔واِلّا معاملہ تو بہت ہی صاف تھا۔میری کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کس قدر اتمامِ حجّت کی گئی ہے۔اب ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔خدا نے قوی دلائل سے ان کا رگ و ریشہ کاٹ دیا ہے۔لیکن یہ نہیں دیکھتے۔شناخت مامور کے تین طریق ایک مامور کی شناخت کے تین طریق ہیں۔نقل،عقل، تائیداتِ سماوی۔اب دیکھنا چاہیے کہ یہ تینوں امور اس