ملفوظات (جلد 6) — Page 199
آنے والا مسیح اس امت میں سے ہوگا۔اب ایک طرف قرآن و حدیث بنی اسرائیلی مسیح کی موت اور اس کے دوبارہ نہ آنے کو بیان کرتے ہیں۔دوسری طرف یہی قرآن و حدیث آنے والے مسیح کو اسی اُمّت میں سے ٹھہراتے ہیں تو پھر اب انتظار کس بات کا ہے۔نشانات اب علامات کو بھی دیکھ لیا جاوے۔صدی کے سر پر مجدّد کا آنا سب نے تسلیم کیا ہے اور یہ بھی مانا ہے کہ مسیح بطور مجدّد صدی کے سر پر آوے گا۔صدی میں سے بائیس سال گذر گئے اور اس وقت تک مجدّد نظر نہ آیا۔آخر اس صدی کے سر پر جس مجدّد نے آنا تھا وہ کہاں ہے؟ کسوف و خسوف کا نشان مہدی کا نشان کسوف و خسوف تھا جو رمضان میںہونا تھا۔اس کسوف و خسوف پر بھی آٹھ سال گذر گئے۔مہدی نہ آیا۔اگر یہ کہا جاوے کہ نشان تو ہو گیا لیکن صاحبِ نشان بعد میں آوے گا تو یہ عقیدہ بڑا فاسد ہے اور قسم قسم کے فسادات کی بنا ہے۔اگر ایک زمانہ کے بعد اکٹھے بیس انسان مہدویت کے مدّعی ہو جاویں تو پھر ان میں کون فیصلہ کرے گا؟ ضرور ہے صاحبِ نشان نشان کے ساتھ ہو۔یہ لوگ منبروں پر چڑھ کر صدی کے سرے کو اور کسوف و خسوف کو یاد کیا کرتے اور روتے تھے لیکن جب وہ وقت آیا تو یہی لوگ دشمن بن گئے۔حدیث کے مطابق تمام نشان واقع ہوگئے لیکن یہ لوگ اپنی ضد سے باز نہیں آتے۔کسوف و خسوف کا عظیم الشان نشان ظاہر ہوگیا لیکن خدا کے اس نشان کی قدر نہ کی گئی۔طاعون کا نشان اسی طرح کل انبیاء کی کتب سابقہ اور قرآن و حدیث میں ایک اَور بَلا کی طرف اشارہ تھا جو کسوف و خسوف کے آسمانی نشان کے بعد آنے والی تھی اور وہ طاعون ہے جو وہ بھی مسیح کے زمانہ سے وابستہ تھی۔یہ ایک خطرناک مصیبت ہے جس کی طرف ہر ایک اولو العزم نبی نے بالتصریح یا بالاجمال اشارہ کیا ہے۔طاعون آگئی۔لاکھوں انسان تباہ ہو گئے اور نہ معلوم کب تک اس کی تباہی چلتی رہے گی لیکن جس موعود کے زمانہ کی شناخت کا یہ نشان ہے اسے اب تک ان لوگوں نے نہ پہچانا۔اسی طرح زمین و آسمان نے شہادت دی لیکن ان شہادتوں کو ردّی ۱ (از ریویو) البدر جلد ۳ نمبر ۳۰ مورخہ ۸؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۳،۴