ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 201

سلسلہ کے مؤید ہیں۔دانیال اور دیگر انبیاءنے تو اس کے آنے کا زمانہ مقرر کر دیا ہے۔حتی کہ صدی اور سال بھی مقرر کر دیا ہے۔تمام عیسائیوں میں ایک قسم کی گھبراہٹ پیدا ہوئی ہے کیونکہ کتبِ سابقہ کے مطابق مسیح کی آمد کا وقت آچکا ہے اور مسیح ابھی تک آیا نہیں۔اس لیے بعض علماء اخیر مجبور ہو کر اس طرف گئے ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی سے مُراد کلیسیا کی ترقی ہے جو ہوچکی ہے۔۱ اسی طرح ہماری کتب کے مطابق بھی بعثتِ مسیح کا یہی زمانہ ہے۔حجج الکرامہ والے نے لکھا ہے کہ کُل اہلِ کشوف اسی طرف گئے ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی کے لیے چودھویں صدی مقرر ہے۔شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی اسی زمانہ کے لیے اسے چراغ الدین کہا ہے۔غرضیکہ ہر ایک بزرگ نے جو زمانہ مقرر کیا ہے وہ چودھویں صدی سے آگے نہیں گیا اگرچہ ان میں کچھ اختلاف ہے۔چودھویں صدی میں لطیف اشارہ اس طرف تھا کہ دینِ اسلام چودھویں رات کے چاند کی طرح اس زمانہ میں چمک اٹھے گا۔جس طرح چاند کا کمال چودھویں رات کو ہوتا ہے اسی طرح اسلام کا کمال کُل دنیا میں چودھویں صدی میں ظاہر ہوگا۔تیرھویں صدی کی تاریکی ان لوگوں میں ضرب المثل ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس صدی کے علماء سے بھیڑیوں نے بھی نجات مانگی تھی۔یہ لوگ چودھویں صدی کے منتظر تھے لیکن جب صدی آگئی تو اپنی بد بختی کے باعث انکار کر گئے۔اسی طرح قرآن میں ذکر ہے وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ۠ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ(البقرۃ:۹۰) اہلِ کتاب منتظر تھے کہ پیغمبر کے آنے پر وہ اس کے ساتھ مل کر کفار سے جنگ کریں گے، لیکن جب پیغمبر آیا تو انکار پر آمادہ ہوگئے۔عقل کے نزدیک بھی زمانہ مسیح کا یہی معلوم ہوتا ہے۔اسلام اس قدر کمزور ہوگیا ہے کہ ایک وقت ایک شخص کے مرتد ہوجانے پر اس میں شور پڑ جاتا تھا لیکن اب لاکھوں مرتد ہوگئے۔رات دن مخالفت اسلام میں کتب تصنیف ہو رہی ہیں۔اسلام کی بیخ کنی کے واسطے طرح طرح کی تجاویز ہو رہی ہیں۔عقل پسند نہیں کرتی کہ جس خدا نے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الـحجر:۱۰) کا وعدہ دیا ہے وہ اس وقت اسلام کی حفاظت نہ کرے اور خاموش رہے۔یہ زمانہ کس قسم کی مصیبت کا