ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 178

حق ہے۔مامورین کا خاص نشان امام اور پیشوا وہی ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے مامور ہو کر آوے۔اس میں اللہ تعالیٰ ایک جذب کی قوت رکھ دیتا ہے جس کی وجہ سے سعادت مند روحیں خواہ وہ کہیں ہوں اس کی طرف کھچی چلی آتی ہیں۔جذب کا پیدا ہونا اپنے اختیار میں نہیں ہے بناوٹ سے یہ بات پیدا نہیں ہوسکتی۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جو لوگ خدا کی طرف سے مامور ہوکر آتے ہیں وہ اس بات کے حریص اور آرزو مند نہیں ہوتے کہ لوگ ان کے گرد جمع ہوں اور اس کی تعریفیں کریں بلکہ ان لوگوں میں طبعاً مخفی رہنے کی خواہش ہوتی ہے اور وہ دنیا سے الگ رہنے میں راحت سمجھتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مامور ہونے لگے تو انہوں نے بھی عذر کیا۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غار میں رہا کرتے تھے وہ اس کو پسند کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ خود ان کو باہر نکالتا ہے اور مخلوق کے سامنے لاتا ہے۔ان میں ایک حیا ہوتی ہے اور ایک انقطاع ان میں پایا جاتا ہے۔چونکہ وہ انقطاع تعلقات صافی کو چاہتا ہے اس لیے وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک لذّت اور سرور پاتے ہیں لیکن وہی انقطاع اور صفائی قلب اللہ تعالیٰ کی نظر میں ان کو پسندیدہ بنا دیتی ہے اور وہ ان کو اصلاحِ خلق کے لیے برگزیدہ کر لیتا ہے۔جیسے حاکم چاہتا ہے کہ اسے کارکن آدمی مل جاوے اور جب وہ کسی کارکن کو پالیتا ہے تو خواہ وہ انکار بھی کرے مگر وہ اسے منتخب کر ہی لیتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو مامور کرتا ہے وہ ان کے تعلقاتِ صافیہ اور صدق و وفا کی وجہ سے انہیں اس قابل پاتا ہے کہ انہیں اپنی رسالت کا منصب سپرد کرے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر ایک قسم کا جبر کیا جاتا ہے۔وہ کوٹھڑیوں میں بیٹھ کر عبادت کرتے ہیں اور اسی میں لذّت پاتے ہیں اور چاہتے ہیںکہ کسی کو ان کے حال پر اطلاع نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ جبراً ان کو کوٹھڑی سے باہر نکالتا ہے پھر ان میں ایک جذب رکھتا ہے اور ہزارہا مخلوق طبعاً ان کی الحکم جلد ۸ نمبر ۱۹، ۲۰ مورخہ ۱۰،۱۷؍جون ۱۹۰۴ء صفحہ ۱،۲