ملفوظات (جلد 6) — Page 120
ایک شخص سچا مسلمان نہ بن جاوے اسے اللہ تعالیٰ کی کوئی شکایت نہیں کرنی چاہیے لیکن میں یقیناً جانتا ہوں کہ جب ایک شخص سچا مسلمان بن جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ پر پورا ایمان لاتا ہے اور اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کے ماتحت کر لیتا ہے وہ یقیناً یقیناً ان وعدوں کو پورا پا تا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص اور مو من بندوں سے کئے ہیں۔وہ اپنی جان پر ان وعدوں کو پوراہوتا ہوا پا تا ہے۔اصل یہ ہے کہ سچا مسلمان بننا ہی تو مشکل ہے۔سچا مسلمان بننا اور اونٹ کا سُوئی کے ناکے سے نکلنا ایک ہی بات ہے۔جب تک یہ نفس اونٹ کی طرح موٹا ہے یہ اس میں سے نکل نہیں سکتا۔لیکن جب دعا اور تضرّع کے ساتھ نفس کو مار لیتا ہے اور وہ جسم جو عارضی طور پر اس پر چڑھا ہوا ہوتا ہے دُور ہو جاتا ہے تو یہ لطیف ہو کر اس میں سے نکل جاتا ہے اس کے لیے ضرورت ہے دعاکی، پس ہر وقت دعا کرتا رہے کیونکہ دعا تو ایک ایسی چیز ہے جو ہر مشکل کو آسان کر دیتی ہے دعا کے ساتھ مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہو جاتا ہے لوگوں کو دعا کی قدر وقیمت معلوم نہیں وہ بہت جلد ملول ہو جاتے ہیں اور ہمّت ہار کر چھوڑ بیٹھتے ہیں۔حالانکہ دعا ایک استقلال اور مداومت کو چاہتی ہے جب انسان پوری ہمّت سے لگا رہتا ہے تو پھر ایک بدخُلقی کیا ہزاروں بد خلقیوں کو اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے اور اسے کامل مومن بنا دیتا ہے لیکن اس کے واسطے اخلاص اور مجاہدہ شرط ہے جو دعا ہی سے پیدا ہوتا ہے۔یادرکھو نری بیعت سے کچھ نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ اس رسم سے راضی نہیں ہوتا جب تک کہ حقیقی بیعت کے مفہوم کو ادا نہ کرے اس وقت تک یہ بیعت بیعت نہیں نری رسم ہے اس لیے ضروری ہے کہ بیعت کے حقیقی منشا کو پورا کرنے کی کوشش کرو یعنی تقویٰ اختیار کرو۔قرآنِ شریف کو خوب غور سے پڑھو اور اس پر تدبّر کرو اور پھر عمل کرو کیونکہ سنّت اللہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نرے اقوال اور باتوں سے کبھی خوش نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے کے واسطے ضروری ہے کہ اس کے احکام کی پیروی کی جاوے اور اس کی نواہی سے بچتے رہو اور یہ ایک ایسی صاف بات ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بھی نری باتوں سے خوش نہیں ہوتا بلکہ وہ بھی خدمت ہی سے خوش ہوتا ہے۔سچے مسلمان اور جھوٹے مسلمان میں یہی فرق ہوتا ہے کہ جھوٹا مسلمان باتیں بناتا ہے کرتا کچھ نہیں اور اس کے مقابلہ میں حقیقی مسلمان