ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 121

عمل کرکے دکھاتا ہے باتیں نہیں بناتا۔پس جب اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ میرا بند ہ میرے لیے عبادت کر رہا ہے اور میرے لیے میری مخلوق پر شفقت کرتا ہے تو اس وقت اپنے فرشتے اس پر نازل کرتا ہے اور سچے اور جھوٹے مسلمان میں جیسا کہ اس کا وعدہ ہے فرقان رکھ دیتا ہے۔گناہ دُور کرنے کا طریق اصل غرض انسان کی پیدا ئش کی یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرے اور ان باتوں سے جو گناہ کہلا تے ہیں بچتا رہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ گناہوں اور بدیوں سے بچے لیکن ان کے دور کرنے کا کیا طریق ہے؟ یادرکھو کہ ہر گناہ اور بدی نری اپنی کوشش سے دور نہیں ہوسکتے جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے شاملِ حال نہ ہو پس اس کے واسطے ضرورت ہے کہ گناہوں کے ترک کرنے کے لیے اس قدر تدبیر کرے جو تدبیر کا حق ہے۔اور اس قدر دعا کرے جو دعا کا حق ہے۔تدبیر کے لیے چاہیے کہ گناہوں کو یادرکھو کہ فلاں فلاں بات گناہ کی ہے اس سے بچنے کی کوشش کرو۔رات دن ان بدیوں کو دُور کرنے کی فکر میں لگے رہو اور ان اسباب پر غور کرو جو ان بدیوں کا باعث ہوتے ہیں اگر ان بدیوں کا موجب بد صحبت ہے تو اس صحبت کو چھوڑ دو اور اگر خُلقِ بد اس کا باعث ہے تو اس خُلق کو چھوڑ دو۔ہرایک چیز کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے اور اسے چھوڑ نہیں سکتا جب تک کہ اس سبب کو نہ چھوڑ دے۔ہاں یہ بھی سچ ہے کہ بعض وقت انسان ان اسباب اور وجوہ کو چھوڑنا چاہتا ہے لیکن وہ عاجز ہو جاتا ہے اور اسے چھوڑنا چاہتا ہے لیکن اس کے چھوڑنے میں قادر نہیں ہوسکتا ایسی صورت میں دعا سے کام لینا چاہیے اور خدا تعالیٰ سے توفیق مانگے تا وہ اسے اس گناہ کی زندگی سے رہائی دے۔یاد رکھو گناہ کی زندگی سے موت اچھی ہے کیونکہ گناہ کی زندگی مجرما نہ زندگی ہے اگر اس پر موت وارد نہ ہو تو یہ سلسلہ لمبا ہو جاتا ہے لیکن جب موت آ جاتی ہے تو کم از کم گناہ کا سلسلہ لمبا تو نہیں ہوتا۔اس سے یہ مراد نہیں کہ انسان خودکشی کر لیوے بلکہ انسان کو چاہیے کہ اس زندگی کو اس قدر قبیح خیال کرکے اس سے نکلنے کے لیے کوشش کرے اور دعا سے کام لے کیونکہ جب وہ حق تدبیر ادا کرتا ہے اور پھر سچی دعاؤں سے کام لیتا ہے تو آخر اللہ تعالیٰ اس کو نجات دے دیتا ہے اور وہ گناہ کی زندگی سے نکل