ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 119

اور شور مچا تا ہے کہ اس کو تو ایک لفظ بھی صحیح بو لنا نہیں آتا۔غرض مختلف قسمیں تکبّر کی ہوتی ہیں اور یہ سب کی سب انسان کو نیکیوں سے محروم کر دیتی ہیں اور لوگوں کو نفع پہنچانے سے روک دیتی ہیں ان سب سے بچنا چاہیے۔کا مل تبدیلی کی ضرورت مگر ان سب سے بچنا ایک موت کو چاہتا ہے جب تک انسان اس موت کو قبول نہیں کرتا خدا تعالیٰ کی برکت اس پر نازل نہیں ہوسکتی اور نہ خدا تعالیٰ اس کا متکفل ہوسکتا ہے اور اگر انسان پورے درجہ کی صفائی نہیں کرتا اور کامل تبدیلی نہیں کرتا تو اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ اس دیوار میں سُوئی کے برابر شگا ف کر دیں خواہ ایسے سوراخ دس ہزار بھی کیوں نہ ہوں لیکن ان سوراخوں کے ذریعہ سے وہ روشنی اندر نہیں آجائے گی جو کُل مکان کو خوب روشن اور منور کر دے لیکن جب ایک اچھا روشن دان اس میں کھولا جائے تو اُس سے کافی روشنی اندر آئے گی اور سارے مکان کو منور کر دے گی۔اسی طرح پر جب تک تم سچے دل سے مسلمان ہو کر پوری تبدیلی نہیں کرتے اور دل کا دروازہ اللہ تعالیٰ کی طرف کامل طور پر نہیں کھولو گے اس وقت تک خدا تعالیٰ کا وہ نور جو اندر داخل ہوکر ایک سکینت اور اطمینان بخشتا ہے اور جو بدیوں اور بُرائیوں کا امتیاز عطا کرتا ہے نازل نہیں ہوتا اور سچے مسلمان بننے کا موقع نہیں ملتا ہے اور جب تک سچا مسلمان نہیں ہوتا اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں سے جو سچے مومنوں اور متقیوں سے اس نے کئے ہیں کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور چونکہ ان وعدوں سے اسے حصّہ نہیں ملتا اور وہ خود محروم رہتا ہے اس لیے شکایت کر بیٹھتا ہے کہ سچے مسلمانوں سے کیا وعدے ہوئے ہیں میری دعا تو قبول نہیں ہوتی لیکن وہ کمبخت نہیں سوچتا کہ میں سچا مسلمان تو ہوا ہی نہیں پھر ان وعدوں کا ایفا کس طرح چاہوں۔اس کی مثال اس بیمار کی سی ہے جس نے ابھی پوری صحت تو حاصل نہیں کی اور نہ تندرستوں کی طرح اس کے قویٰ میں طاقت آئی ہے مگر وہ کہتا ہے کہ مجھے تندرستوں کی طرح بھوک نہیں لگتی اور میں چل پھر نہیں سکتا تو اسے یہی کہا جائے گا کہ ابھی تو پوراتندرست نہیں ہوا جب تک تندرست نہ ہو تندرستوں کے لوازمات تجھے کیوں کر حاصل ہو جاویں پس اسی طرح پر جب تک کہ