ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 108

۲۸؍فروری ۱۹۰۴ء (بوقتِ ظہر) تدبیر اور توکّل تدبیر اور توکّل پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وَفِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ(الذّٰریٰت:۲۳)سے ایک نادان دھوکا کھاتاہے اور تدابیر کے سلسلہ کو باطل کرتا ہے حالانکہ سورۃ جمعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ (الـجمعۃ:۱۱) کہ تم زمین میں منتشر ہو جائو اور خدا کے فضل کی تلاش کرو۔یہ ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے کہ ایک طرف تدابیر کی رعایت ہو اور دوسری طرف توکّل بھی پورا ہو۔اور اس کے اندر شیطان کو وساوس کا بڑا موقع ملتا ہے(بعض لوگ ٹھوکر کھا کر اسباب پرست ہوجاتے ہیں اور بعض خدا تعالیٰ کے عطا کردہ قویٰ کو بیکار محض خیال کرنے لگ جاتے ہیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ کو جاتے تو طیاری کرتے۔گھوڑے، ہتھیار بھی ساتھ لیتے بلکہ آپ بعض اوقات دو دو زرہ پہن کر جاتے۔تلوار بھی کمر سے لٹکاتے حالانکہ ادھر خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ(المآئدۃ:۶۸) بلکہ ایک دفعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تجویز فرمایا کہ اگر شکست ہو تو آپ کو جلد مدینہ پہنچا دیا جاوے۔اصل بات یہ ہے کہ قوی الایمان کی نظر استغناء ِالٰہی پرہو تی ہے اور اسے خوف ہوتاہے کہ خدا کے وعدوں میں کوئی ایسی مخفی شرط نہ ہو جس کا اسے علم نہ ہو۔جو لوگ تد ابیرکے سلسلہ کو بالکل باطل ٹھہراتے ہیں ان میں ایک زہریلا مادہ ہوتا ہے ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اگر بَلا آوے تو دیدہ دانستہ اس کے آگے جاپڑیں اور جس قدر پیشہ والے اور اہلِ حرفت ہیں وہ سب کچھ چھوڑچھاڑ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاویں۔بعض فقہی مسائل ایک شخص نے چند مسائل دریافت کئے وہ اوران کے جواب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دئیے ان کو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔(ایڈیٹرالبدر) سوال۔میّت کے قل جو تیسرے دن پڑھے جاتے ہیں ان کاثواب اسے پہنچتا ہے یا نہیں؟ جواب۔قل خوانی کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے (صدقہ)، دعا اور استغفار میّت کو پہنچتی ہے