ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 107

کی نسبت میری نظر سے نہیں گذرا۔ہاں جو قرآن شریف پر عامل ہوگا اس کی دعا زیادہ قبول ہوگی۔سوال۔مُردہ کا ختم وغیرہ جو کرایا جاتا ہے یہ جائز ہے کہ ناجائز۔جواب۔اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے صرف دعا اور صدقہ میّت کو پہنچتی ہے مومن کو چاہیے کہ نماز پنجگانہ ادا کرے اور رکوع سجود میں میّت کے لئے دعا کرے یہ طریق نہیں ہے کہ الگ کلام پڑھ کر بخشے۔اب دیکھو لغت کا کلام منقول چلا آتا ہے کسی کا حق نہیں ہے کہ اپنی طرف سے معنے گھڑ لے ایسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اَمر ثابت ہو اس پر عمل کرنا چاہیے نہ کہ اپنی من گھڑت پر۔سوال۔السلام علیکم یا اہل القبور جو کہا جاتا ہے کیا مُردے سنتے ہیں۔جواب۔دیکھو وہ سلام کا جواب و علیکم السلام تونہیں دیتے۔خدا تعالیٰ وہ سلام (جو ایک دعا ہے) ان کو پہنچا دیتا ہے۔اب ہم جو آواز سنتے ہیں اس میں ہوا ایک واسطہ ہے۔لیکن یہ واسطہ مُردہ اور تمہارے درمیان نہیں لیکن السلام علیکم میں خدا تعالیٰ ملائکہ کو واسطہ بنا دیتا ہے اسی طرح درود شریف ہے کہ ملائکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا دیتے ہیں۔سوال۔ختم کی ریوڑیاں وغیرہ لے کر کھانی چاہئیں کہ نہ۔جواب۔ختم کا دستور بدعت ہے شرک نہیں ہے اس لئے کھا لینی جائز ہے لیکن ختم دینا دلوانا ناجائز ہے اور اگر کسی پیر کو حاضر ناظر جان کر اس کا کھانا دیا جاتا ہے وہ ناجائز۔سوال۔یہ جو لکھا ہے کہ مدینہ جا کر شیخ عبد القادر ؒ نے یَا حَبِیْبَ اللّٰہِ خُذْ بِیَدِیْ کہا۔جواب۔اوّل تو اس کی سند کیا پھر بعض وقت اہل اللہ کو مکاشفہ ہوتاہے اس میں خدا تعالیٰ اہلِ قبور سے باتیں کرا دیتا ہے مگر یہ خدا کا فضل ہوتا ہے۔سوال۔اگر امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھی جاوے تو جائز ہے کہ نہیں۔جواب۔حدیث شریف میں اس کی بہت تاکید ہے بلکہ لکھا ہے کہ اس کے بغیر نماز ہی نہیں اگر جہری نماز ہے تو امام کے اوقاف میں پڑھ لیوے اور خفی ہے تو پیچھے پڑھ سکتا ہے اگرچہ نہ پڑھنے کو بھی جائز کہا ہے لیکن میرا مذہب تو یہی ہے سورہ فاتحہ ضرور امام کے پیچھے پڑھ لے۔۱