ملفوظات (جلد 6) — Page 92
ملفوظات حضرت مسیح موعود کر کے پیار سے فرمایا کہ ۹۲ آمدن بارادت رفتن با جازت۔ آپ تو سمجھتے ہی ہیں کہ کب تک آپ کو ٹھہرنا چاہیے۔ لے اس سے پایا جاتا ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی بڑی خواہش ہوتی ہے کہ احباب عرصہ تک رہ کر آپ کی پاک صحبت سے بہرہ اندوز ہوں ۔اسی ضمن میں طاعون کی شدت کا ذکر ہو گیا اس پر آپ نے سلسلہ کلام یوں شروع فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صاف کرو حقیقت میں سچے مسلمان بننے کا اب وقت آیا ہے : کے یقین بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ پر جس قسم کا یقین انسان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ویسا ہی معاملہ کرتا ہے پس ضروری امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صاف کرو تا وہ بھی تم پر رحم کرے کیونکہ سچ یہی ہے ۔ مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللهُ لَهُ - طاعون سے وفات احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہؓ بھی طاعون سے فوت ہوئے سے سے لیکن ان کے لیکن ان کے لیے وہ شہادت تھی ۔ مومن کے واسطے یہ شہادت ہی ہے پہلی امتوں پر رِجْرًا مِنَ السَّمَاءِ ( البقرة : ٢٠ ) تھی ۔ صحابہ کس قدر اعلیٰ درجہ رکھتے تھے لیکن ان میں سے بھی اس کا نشانہ ہو گئے اس سے ان کے مومن ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ ابو عبیدہ بن الجراح جیسے صحابی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بڑے ہی عزیز تھے طاعون ہی سے شہید ہوئے تھے۔ طاعون سے ل البدر میں یہ ڈائری یوں درج ہے۔ چند ایک احباب نے اپنی واپسی کی اشد ضروریات پیش کیں ان کو رخصت عطا فرمائی گئی لیکن عالی جناب محمد ابراہیم خان صاحب شریف بن حاجی موسی خال حاجی موسیٰ خان صاحب برادر زاده خان بہادر مراد خان مرحوم آمده از کرا۔ بهادر مراد خان مرحوم آمده از کراچی کی رخصت طلبی وو دو پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ چند دن اور رہیں ”’ آمدن بارادت رفتن با جازت اور اسی طرح جناب تفضل حسین صاحب پنشنر تحصیلدار ریکیں اٹاوہ کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ اب تو ان کو بھی فراغت ہے اور ایک عرصہ کے بعد آئے ہیں یہ بھی چند دن رہیں ۔“ 66 البدر سے ۔ ”اس کے سوا گزارہ نہیں ہے۔ 66 البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ / مارچ ۱۹۰۴ء صفحه (۳) البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۳) سے البدر میں ہے۔ ” بعض صحابہ اور ان کی اولا د بھی طاعون سے فوت ہوئے تھے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ / مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۳)