ملفوظات (جلد 5) — Page 87
ہر ایک گھر میں دلائی جاتی ہے اس کی نسبت ایک شخص نے حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ یہ فعل کیسا ہے؟ فرمایا کہ اذان سراسر اللہ تعالیٰ کا پاک نام ہے ہمیں تو علیؓ کا جواب یاد آتا ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ میں اس اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْهٰى عَبْدًا اِذَا صَلّٰى (العلق:۱۰، ۱۱) کا مصداق ہونا نہیں چاہتا۔ہمارے نزدیک بانگ میں بڑی شوکت ہے اور اس کے دلوانے میں حرج نہیں (حدیث میں آیا ہے کہ اس سے شیطان بھاگتا ہے)۱ ۲۵؍ اپریل ۱۹۰۳ء (دربارِ شام) الہام يٰۤاَرْضُ ابْلَعِيْ مَآءَكِ وَ يٰسَمَآءُ اَقْلِعِيْ ۲ مولوی محمد حسین صاحب کے ذکر پر فرمایا کہ ۳ اصل میں اگر کوئی صاف دل اور بے تعصب ہو کر ہمارے دلائل سنے تو اس کو معلوم ہوجاوے کہ درحقیقت ہم حق پر ہیں۔ہمارا ان کا اختلاف ہی کیا ہے۔وفات مسیح علیہ السلام مسیحؑ کی حیات ممات کا بڑا مسئلہ ہے اور یہ ایسا صاف ہے کہ اس میں زیادہ بحث کی ضرورت نہیں پڑتی۔شروع سے یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے اور وفاتِ مسیحؑ اکثر اکابران ملت کا مذہب ہے۔صحابہؓ کا یہی مذہب تھا۔۱ البدر جلد۲نمبر ۱۵مورخہ یکم مئی۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۶ ۲یہ الہام اور اس کی تشریح البدر میں ۲۷؍ اپریل کی ڈائری کے بعد درج ہے۔دیکھئے صفحہ ۹۴ پر’’طاعون کے متعلق ایک تازہ الہام۔‘‘(مرتّب) (البدر جلد۲نمبر ۱۵مورخہ یکم مئی۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۷) ۳البدر میں لکھا ہے۔’’مقدمات کی نسبت ذکر ہوا۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں ہم کو فتح دی ہے براہین میں یہ الہام موجود ہے۔‘‘ (البدر جلد۲نمبر ۱۵مورخہ یکم مئی۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۶)