ملفوظات (جلد 5) — Page 86
۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء (مجلس قبل ازعشاء) ایک اعتراض کا جواب کسی نے اعتراض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں کوئی احمدی طاعون سے فوت ہوتا ہے؟ فرمایا کہ یہ ان لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ انجام کو نہیں دیکھتے۔آنحضرت کے وقت جب ایک طرف کافر مَرتے ہوں گے اور ایک طرف صحابہؓ بھی۔تو لوگ اعتراض تو کرتے ہوں گے کہ مَرتے تو وہ بھی ہیں پھر فرق کیا؟اس لیے ہمیشہ انجام کو دیکھنا چاہیے۔ایک وہ وقت تھا کہ آنحضرت اکیلے تھے اور کوئی ساتھ نہ تھا ہر ایک مقابلہ کے لیے طیار ہوتا۔اب ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر طاعون سے ہمارے مرید مَرتے جاتے ہیں تو پھر ہماری ترقی کیوں ہوتی جاتی ہے؟اور ان کی جمعیت کیوں گھٹتی جاتی ہے؟یہ اعتراض تو پھر سب پیغمبروں پر ہوگا اور ہم نے تو اس لیے کشتی نوح میں لکھ دیا تھا کہ اگر عافیت کا پہلو نسبتاً ہماری طرف ہے تو ہم سچے اور موت تو سب کو آتی ہے اس سے کس کو انکار ہے۔طاعون کو جو ایک طرف شہادت اور ایک طرف عذاب کہا جاتا ہے۔اس کے یہی معنے ہیں کہ اس کے ذریعے سے جس فریق کے لیے برکات ظاہر ہورہے ہیں ان کے لیے تو شہادت اور رحمت ہے اور جن کے لیے برکات ظاہر نہ ہوں اور کمی ہوتی جاوے ان کے لیے عذاب ہے۔ہم کو اس سے دو فائدے ہیں اور ان کو دو نقصان ہیں اور پھر ہم بیس سال سے براہین میں یہ پیشگوئی عذاب کی شائع کرچکے ہیں۔خدا نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ان کافروں کو جس طرح چاہے عذاب دیوے۔پھر جب ان لوگوں کو وہ عذاب ایک جنگ کے رنگ میں نازل ہوا تو کفار کے ساتھ صحابہؓ کیوں اس میں حصہ لیتے رہے؟یہ اَمر اس لیے ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایک پہلو اِخفا اور ایمان بالغیب کا بھی رہے۔ہندوئوں کا بانگ دلوانا آج کل طاعون کی کثرت کے وقت اکثر سکھوں اور ہندوئوں کے گائوں میں یہ علاج کیا جاتا ہے کہ اذان نماز بڑے زور اور کثرت سے