ملفوظات (جلد 5) — Page 88
احیاءِ موتٰی رہا حضرت عیسیٰ کا احیاءِ موتٰی۔اس میں روحانی احیاءِ موتٰیکے تو ہم بھی قائل ہیں اور ہم مانتے ہیں کہ روحانی طور پر مُردے زندہ ہوا کرتے ہیں اور اگر یہ کہو کہ ایک شخص مَر گیا اور پھر زندہ ہوگیا۔یہ قرآن شریف یا احادیث سے ثابت نہیں ہے اور ایسا ماننے سے پھر قرآن شریف اور احادیث نبوی گویا ساری شریعت اسلام ہی کو ناقص ماننا پڑے گا کیونکہ رَدُّ الْمَوْتٰی کے متعلق مسائل نہ قرآن شریف میں ہیں نہ حدیث نے کہیں ان کی صراحت کی ہے۔اور نہ فقہ میں کوئی بات اس کے متعلق ہے۔غرض کسی نے بھی اس کی تشریح نہیں کی۔اس طرح پر یہ مسئلہ بھی صاف ہے۔۱ خلق طیر پھر ان کا جانور بنانا ہے سواس میں بھی ہم اس بات کے تو قائل۲ ہیں کہ روحانی طور سے معجزہ کے طور پر درخت بھی ناچنے لگ جاوے تو ممکن ہے مگر یہ کہ انہوں نے چڑیاں بنادیں اور انڈے بچے دے دئیے اس کے ہم قائل نہیں ہیں اور نہ قرآن شریف سے ایسا ثابت ہے۔ہم کیا کریں ہم اس طور پر ان باتوں کو مان ہی نہیں سکتے جس طرح پر ہمارے مخالف کہتے ہیں۔کیونکہ قرآن شریف صریح اس کے خلاف ہے اور وہ ہماری تائید میں کھڑا ہے اور دوسری طرف بار بار کثرت کے ساتھ ہمیں الہام الٰہی کہتا ہے قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُؤْمِنُوْنَ۔قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔اب ان الہامات کے بعد ہم اور کس کی بات سنیں؟ اور وہ کون ہے جس کی آواز خدا کی ان آوازوں کے بعد ہمارے دل کو لے سکے؟ مولوی محمد حسین صاحب نے تو خود لکھ دیا ہے کہ اہل کشف اور ولی الہام کے رو سے احادیث کی صحت کر لیتے ہیں۔۱ البدر میں ہے۔’’فرمایا۔ہم اعجازی احیاء کے قائل ہیں مگر یہ بات بالکل ٹھیک نہیں ہے کہ ایک مُردہ اس طرح زندہ ہوا ہو کہ وہ پھر اپنے گھر میں آیا اور رہا اور ایک اور عمر اس نے بسر کی اگر ایسا ہوتا تو قرآن ناقص ٹھہرتا ہے کہ اس نے ایسے شخص کی وراثت کے بارے میں کوئی ذکر نہ کیا اور اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائدۃ:۶) کیا ہوا۔‘‘ (البدر جلد۲نمبر ۱۵مورخہ یکم مئی۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۶) ۲ البدر میں ہے۔’’فرمایا۔اسی طرح ہم چڑیوں کو مانتے ہیں کہ وہ بھی ٹاپنے لگ گئی ہوں اور چڑیاں کیا شَے ہیں ہم تو یہ بھی مانتے ہیں کہ ایک درخت بھی ٹاپنے لگے۔مگر پھر بھی وہ خدا کی چڑیوں کی طرح ہرگز نہیں ہوسکتیں کہ جس سے تشابہ فی الخلق لازم آجاوے بڑی بات قابل فیصلہ وفات مسیح ہے۔‘‘(البدر جلد۲نمبر ۱۵مورخہ یکم مئی۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۶)