ملفوظات (جلد 5) — Page 74
حدیثوں نے کیا ہے کہ دوسرے گو اس کو سمجھ نہیں سکتے ورنہ حدیث قرآن سے باہر نہیں۔خدا نے قرآن کانام رکھا ہے مُفَصَّلًا۔اس پر ایمان ہونا چاہیے بعض تفاسیر سوائے انبیاء کے اَور کی سمجھ میں نہیں آتیں۔پھر اس طرح حدیث میں قرآن سے زائد کچھ نہیں۔۱ بلاتاریخ متّقی ہر وقت تیار رہتا ہے ہر رات حاملہ عورت کی طرح ہوتی ہے جیسے وہاں معلوم نہیں کہ کیا پیدا ہو، نہیں معلوم صبح کو کیا نتیجہ پیدا ہو۔اس لیے متقی اپنے اوقات کو ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ ہر وقت طیار رہتا ہے یہ جان کر کہ معلوم نہیں کس وقت آواز پڑ جاوے۔نبوتِ مسیح موعود نبوت کا لفظ ہمارے الہامات میں دوشرطیںرکھتا ہے اوّل یہ اس کے ساتھ شریعت نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ بواسطہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔ملائکہ کا وجود جو لوگ ملائک سے انکار کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں ان کو اتنا معلوم نہیں کہ دراصل جس قدر اشیاء دنیا میں موجود ہیں ذرّہ ذرّہ پر ملائکہ کا اطلا ق ہوتا ہے اور میںیہی سمجھتا ہوں کہ بغیراس کے اذن کے کوئی چیز اپنا اثر نہیں کرسکتی یہاں تک کہ پانی کا ایک قطرہ بھی اندر نہیں جا سکتا اور نہ وہ موثر ہوسکتا ہے وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ (بنی اسـرآءیل:۴۵) کے یہی معنے ہیں اور رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ کے بھی یہی معنے ہیں یہی اسلام اور ایمان ہے اس کے سوا بد بودار چیز ہے۔(بقیہ حاشیہ)قرآن کے کس مقام سے استنباط کی ہے تو ان کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن میں نہیں ہے اور اصل بات یہ ہے کہ سب کچھ قرآن سے ہی لیا گیا ہے مگر اس باریک در باریک استنباط کا ان لوگو ںکو علم نہیں ہوتا خدا نے قرآن کو کتاب مفصل کہا ہے تو اس پر ایمان ہونا چاہیے بعض استنباط سوائے انبیاء کے دوسرے کو سمجھ ہی نہیں آیا کرتے۔اس پر مو لوی محمد احسن صاحب نے کہا کہ جیسے اب اس وقت مسیح موعودؑ اور اس زما نہ کے فتن کی خبر حضور نے سورۃفاتحہ سے استنبا ط کرکے بتلائی ہے آج تک کس کو خبر تھی کہ یہ سب کچھ قرآن میں ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ءصفحہ ۱۱۴) ۱الحکم جلد ۷نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲