ملفوظات (جلد 5) — Page 73
احیاء موتیٰ احیاءِ موتیٰ کے بارے میں سوال ہونے پر فرمایا کہ اس میں ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ اعجازی طور بھی احیاء موتیٰ نہیں ہوتا بلکہ یہ عقیدہ ہے کہ وہ شخص دوبارہ دنیا کی طرف رجوع نہیں کرتا۔مبارک احمد کی حیات اعجازی ہے۔اس میں کوئی بحث نہیں کہ جس شخص کی باقاعدہ طور پر فرشتہ جان قبض کر لے اور زمین میں دفن بھی کیا جاوے وہ پھر کبھی زندہ نہیں ہوتا۔شیخ سعدی نے خوب کہا ہے۔؎ واہ کہ گر مُردہ باز گر دیدے درمیاں قبیلہ و پیوند ردّ میراث سخت تر بُودے وارثان را ز مَرگ خویشاوند خدا تعالیٰ نے بھی فرمایا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (الزمر:۴۳) حقیقتِ کشف کشف کیا ہے اسی بیداری کے ساتھ کسی اور عالم کا تداخل ہو جاتا ہے۔اس میں حواس کے معطل ہونے کی ضرورت نہیں۔دنیا کی بیداری بھی ہوتی اور ایک عالمِ غیبو بیّت بھی ہوتا ہے یعنی حالت بیداری ہوتی اور اسرارِ غیبی بھی نظر آتے۔قتلِ انبیاء قتلِ انبیاء پر سوال ہونے پر فرمایا۔توریت میں لکھا ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جاوے گا۔اس کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر قرآن کی نصِ صریح سے پایا جاوے یا حدیث کے تواتر سے ثابت ہو کہ نبی قتل ہوتے رہے ہیں تو پھر ہم کو اس سے انکار نہیں کرنا پڑے گا۔بہر حال یہ کچھ ایسی بات نہیں کہ نبی کی شان میں خلل انداز ہو کیونکہ قتل بھی شہادت ہوتی ہے مگر ہاں ناکام قتل ہو جانا انبیاء کی علامات میں سے نہیں۔یہ مصالح پر موقوف ہے کہ ایک شخص کے قتل سے فتنہ بر پا ہوتا ہے تو مصلحتِ الٰہی نہیں چاہتی کہ اس کو قتل کرا کر فتنہ بر پا کیا جاوے۔جس کے قتل سے ایسا اندیشہ نہ ہو اس میں حرج نہیں۔حدیث قر آن سے باہر نہیں پھر فرمایا۔جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے وہی کچھ حدیث میں۔ہاں بعض۱ باتوں کا استنباط ایسا اعلیٰ ۱ البد ر میں یہ عبارت یوں ہے۔’’ہاں یہ بات ہے کہ بعض لوگوں کواس بات کا علم نہیں ہوتا کہ آنحضرتؐنے فلاں بات