ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 75

موت موت کا مضمون بہت ہی موثر مضمون ہے اگر یہ انسان کے اندر چلا جاوے تو انسان بدیوں سے بچنے کی بہت کوشش کرے۔ابراہیم اَدہم اور شاہ شجاع جیسے بادشاہوں پر اسی مضمون نے اثر کیا تھا جو سلطنتیں چھوڑ کر فقیر ہو گئے۔خَلق اور اَمر جو چیز عِلل اور اسباب سے پیدا ہوتی ہے وہ خَلق ہے اور جو محض۔کُنْ سے ہو وہ اَمر ہے چنا نچہ فرمایا ہے اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (یٰسٓ:۸۳ ) عالم اَمر میں کبھی تو قف نہیں ہوتا خلق سلسلہ علل ومعلول کا محتاج ہے جیسے انسان کے بچہ پیدا ہونے کے لیے نطفہ ہو پھر دوسرے مراتب اور طبعی اور طبابت کے قواعد کے نیچے ہوتا ہے مگر اَمر میں یہ نہیں ہوتا ہے۔۱ ۲۱؍اپریل ۱۹۰۳ء (بوقتِ سیر) وحی والہام کشف فرمایا کہ جب سماع۲ کے ذریعہ سے کوئی خبر دی جاتی ہے تواسے وحی کہتے ہیں اور جب رویت کے ذریعہ سے کچھ بتلا یا جاوے تواسے کشف کہتے ہیں اسی طرح میں نے دیکھا ہے کہ بعض وقت ایک ایسا اَمر ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق صرف قوت ِشا مہ سے ہوتا ہے مگر اس کا نام نہیں رکھ سکتے جیسے یوسفؑ کی نسبت حضرت یعقوبؑکو خوشبو آئی تھی اِنِّيْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ(یوسف:۹۵) اور کبھی ایک اَمر ایسا ہوتا ہے کہ جسم اسے محسوس کرتا ہے گویا کہ حواس خمسہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی باتیں اظہار کرتا ہے۔۱