ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 71

(جو ۱۵؍اپریل کی ڈائری میں آچکا ہے۔) اور یہ فرمایا۔قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ( اٰل عـمران:۳۲) جو جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے کلام بغیر نہیں رہ سکتا۔اسی طرح خدا جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے بلا مکالمہ نہیں رہتا۔آنحضرت کی اتباع سے جب انسان کو خدا پیار کرنے لگتا ہے تو اس سے کلام کرتا ہے۔غیب کی خبریں اس پر ظاہر کرتا ہے۔اسی کانام نبوت ہے۔(مجلس قبل از عشاء) معرفت کی راہ فرمایا۔خدا کی معرفت کی راہ بہت باریک اور تنگ ہے۔اس لیے اس کا مشاہدہ انسان پر مشکل ہے۔ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ اسباب کے ڈھیر کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور اسی لیے انسان اس پر مائل ہوجاتا ہے مگر تاہم ایک حصہ امراض کا انسان کو ایسا لگا ہوا ہے کہ طبیب ہاتھ ملتے ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ پیش نہیں جاتی۔کیا دینداری اختیار کرنے سے مصیبت آتی ہے؟ بعض دنیا دار اعتراض کرتے ہیں کہ دینداری اختیار کی تو مصیبت آئی۔مگر وہ بہت جھوٹے ہوتے ہیں۔دیندارپر اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے ثواب اور معرفت کا موجب ہوتی ہے اور دنیا دا رپر جو مصیبت آتی ہے وہ اس کی لعنت کا موجب ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مصیبت پڑی مگر کیا ہی پیاری مصیبت تھی کہ جیسے جیسے وہ بڑھتی جاتی ویسے ہی زور سے قرآن نازل ہوتا جاتا۔وہ دَور گو جلدی ختم ہوگیا یعنی صرف حضرت معاویہ تک ہی رہا۔مگر نہ وہ رہے اور نہ یہ۔ہاں سعید گروہ کے آثار قیامت تک رہے اور شقی کا نام بھی ندارد۔کاش کہ ابو جہل کبھی زندہ ہوکر آتا تو دیکھتا کہ جس کو وہ حقیر اور ذلیل خیال کرتا تھا خدا نے اس کی کیا شان بنائی ہے۔مشرق اور مغرب تک کہاں کہاں بلاد اسلامیہ پھیلے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو صحابہ ؓ فوت ہوئے انہوں نے تو وہ ترقیات نہ دیکھیں مگر جنہوں نے حضرت عمر ؓ کا زمانہ پایا انہوں نے دیکھ لیں۔اگر ابوجہل وغیرہ کو معلوم ہوتا کہ یہ عروج ہوگا تو مثل غلاموں کے آنحضرتؐکے ساتھ ہوجاتے۔۱ ۱البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۳، ۱۱۴