ملفوظات (جلد 5) — Page 70
تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ(النّمل:۸۳) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود ؑ جس کے وقت کے متعلق یہ پیشگوئی ہے اس کے دعاوی کا بہت بڑا انحصار اور دارومدار نشانات پر ہوگا اور خدا نے اسے بھی بہت سے نشانات عطا فرمارکھے ہوں گے کیونکہ یہ جو فرمایا کہ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ یعنی اس عذاب کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے نشانات کی کچھ بھی پروا نہ کی اور ان کو نہ مانا اس واسطے ان کویہ سزا ملی ہے۔ان نشانات سے مُراد صرف مسیح موعود کے نشانات ہیں ورنہ یہ اَمر تو ٹھیک نہیں کہ گناہ تو زید کرے اور اس کی سزا عمرو کو ملے جو اس سے تیرہ سوسال بعد آیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر لوگوں نے نشانات دیکھے اور ان سے انکار کیا تو اس انکار کی سزا تو ان کو اسی وقت مِل گئی اور وہ تباہ اور برباد ہوگئے اور اگر آیت سے وہی نشانات مُراد ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ظاہر ہوئے تھے تو اب ہزاروں لاکھوں مسلمان ایسے ہیں کہ اگر ان سے پوچھا بھی جاوے کہ بتاؤ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کون کون سے نشانات ظاہر ہوئے تو ہزاروں میں سے شاید کوئی ہی ایسا نکلے جس کو اس طرح پر آپؐکے نشانات کا علم ہو ورنہ عام طور سے اب مسلمانوں کو خبر تک بھی نہیں کہ وہ نشانات کیا تھے اور کس طرح خدا نے آپ کی تائید میں ان کو ظاہر فرمایا مگر کیا اس لاعلمی سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ لوگ سارے کے سارے ان نشانات سے منکر ہیں اور ان کو وہ نہیں مانتے حالانکہ وہ مومن بھی ہیں۔اگر ان کو علم ہو تو وہ مانے بیٹھے ہیں ان کو کوئی انکار نہیں۔ان لوگوں کے متعلق تو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات نہ ماننے کا لفظ لا سکتے ہی نہیں کیونکہ انہوں نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی نبوت کی تفاصیل سمیت مان لیا ہوا ہے وہ انکار کیسے کرسکتے ہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پر وہ نشانات اب حجت نہیں کیونکہ انہوں نے وہ دیکھے نہیں ہیں جنہوں نے دیکھ کر انکار کیا تھا وہ ہلاک ہوچکے موجودہ زمانے کے لوگوں نے آپ کے نشانات دیکھے ہی نہیں تو وہ اس انکار کی وجہ سے ہلاک کیسے ہوسکتے ہیں؟ پس معلوم ہوا کہ ان نشانات سے مُراد مسیح موعودؑ ہی کے نشانات ہیں جن کے انکار کی وجہ سے عذاب کی تنبیہ ہے اور خدا کا غضب ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے مسیح موعود کے نشانات سے انکار کیا ہے اور یہ خدائی فیصلہ ہے جس کو ردّ نہیں کر سکتا۔یہ نصِّ صریح ہے اس بات پر کہ طاعون مسیح موعود ؑ کے انکار کی وجہ سے آئی ہے۔۱ ۱۸؍اپریل ۱۹۰۳ء (بوقتِ سیر) حضور کا دعویٰ نووارد مہمانوں میں سے ایک نے سوال کیا کہ آپ کا دعویٰ کیا ہے؟ فرمایا۔ہمارا دعویٰ مسیح موعود کا ہے جس کے کل عیسائی اور مسلمان منتظر ہیں وہ مَیں ہوں۔پھر پوچھا کہ اس کے دلائل کیا ہیں؟ فرمایا کہ اب وقت تھوڑا ہے۔سوال تو انسان چند منٹوں میں کر لیتا ہے مگر بعض اوقات جواب کے لیے چند گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔جب تک ہر ایک پہلو سے نہ سمجھایا جاوے تو بات سمجھ نہیں آیا کرتی اس لیے آپ کتابیں دیکھیں یا پھر کافی وقت ہوتو بیان کر دیئے جاویں گے۔خاتم النّبیّین کی تشریح دوسرے صاحب نے سوال کیا کہ خاتم نبوت کی شرح کیا ہے؟ اس کے جواب میں حضرت اقدس نے اپنا وہی مذہب بیان کیا ۱الحکم جلد ۷ نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ءصفحہ ۳