ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 72

۱۸؍ اپریل کی شام کو حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں لیٹا ہوا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب نظر کے آگے سے پھر گئے پھر یہ لفظ الہام ہوئے۔سَاُخْبِرُہٗ فِیْ اٰخِرِ الْوَقْتِ اَنَّکَ لَسْتَ عَلَی الْـحَقِّ۔۱ حضرت اقدس نے بعد نماز مغرب ایک ذکر پر فرمایا کہ اخبار میں ایک حصہ نظم کا لگا تار ہونا چاہیے اور وہ ہمارے سلسلہ کے متعلق ہوا کرے۔۲ ۲۰؍اپریل ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر) حُبابِ ہستی فرمایا۔مجھے ہمیشہ تعجب آتا ہے کہ باوجود اس قدر بے بنیاد ہستی کے انسان دنیا میں بنیادیں قائم کرتا ہے صرف ایک دم کی آمدو شدہے اَور کچھ بھی نہیں۔پھر یہ سلسلہ خدا نے کیسا رکھا ہے کہ جو شخص یہاں سے رخصت ہوجاوے اس کو اجازت نہیں کہ واپس آکر وہاں کی خبر ہی بتلا جاوے۔اس سے حکماء اور فلاسفر اور دانایانِ زمان سب عاجز ہیں ہاں اسی قدر پتا ملتا ہے جو خدا کی کلام نے بتایاہے۔آدمی جو مَرتا ہے اکثر اپنے بڑے بڑے تعلقات اور عزیز اور پیارے رشتہ دار چھوڑ جاتا ہے مگر معاً انتقال کے بعد ان سے کچھ تعلق نہیں رہتا۔آج کل یورپ کو ہر ایک بات کی تلاش ہے۔چنانچہ امریکہ میں ایک شخص سے معاہدہ ہوا (جو واجب القتل تھا)کہ جب اس کاسر کاٹا جاوے تواس کو بہت بلند آواز سے پکارا جاوے تو میں آنکھ سے اشارہ کروں گا۔چنانچہ جب سر کاٹا گیا تو بڑے زور سے آوازیں دی گئیں مگر کچھ حرکت نہ ہوئی۔سچ ہے ع آنرا کہ خبر شد خبرش باز نیامد جو کچھ خدا نے فرمایا ہے وہی سچ ہے ہاں موت اور نیند کو آپس میں مشابہت ہے۔۱البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۹ ۲البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ضمیمہ اخبار البدر