ملفوظات (جلد 5) — Page 57
بائیں کا دائیں۔آخر تنگ آکر سیاہی کا نشان لگایا گیا کہ شناخت رہے مگر اس طرح بھی کام نہ چلا۔آخر میں نے کہا کہ یہ میری فطرت ہی کے خلاف ہے کہ ایسا جوتا پہنوں۔دو راستوں میں سے کس کو اختیار کرے اسی صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص جاتا ہو اور ایک جگہ پر دو راہ جمع ہو جائیں۔ایک دائیں اور دوسرا بائیں۔تو کس راہ کی طرف جاوے؟ فرمایا کہ اس سے اگر تمہاری مُراد بھی جسمانی راہ ہے تو پھر اس راہ جاوے جس میں اس کی صحت نیت اور کوئی فساد نہیں اور اگر جانتا ہے کہ ادھر بدبو اور عفو نت ہے اور یا کنجروں اور فاسقوں، خدا و رسول کے دشمنوںکے گھرہیں تو اس راہ کو چھوڑ دے۔غرض صحتِ نیت کا خیال کرلے اور فساد کی راہ سے پرہیز بکلی کرے۔۱ بے ایمانی کیسے پیدا ہوتی ہے ایک اَور سوال کیا کہ بے ایمانی کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ فرمایا کہ بے ایمانی خدا کی معرفت نہ ہونے اور ایمان کے کامل درجہ تک نہ پہنچنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ادھورا ایمان اس کی وجہ ہوتی ہے۔ختم نبوت سے مُراد ایک اَور صاحب نے سوال کیا کہ حضور جب سلسلہ موسوی اور سلسلہ محمدی میں مماثلت ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس سلسلے کے خادم تو نبی کہلائے مگر ادھر اس طرح کوئی بھی نبی نہ کہلایا؟ فرمایا کہ مشابہت میں ضروری نہیں کہ مشبّہ اور مشبَّہ بہٖ بالکل آپس میں ایک دوسرے کے عین ہوں اور ان کا ذرا بھی آپس میں خلاف نہ ہو۔اب ہم جو کہتے ہیں کہ فلاں شخص تو شیر ہے۔تو اب اس میں ۱ البدر سے۔’’فرمایا۔اگر سوال کا تعلق ظاہری راستوں سے ہے تو جو راستہ عافیت کا ہو اُدھر سے جاوے۔مثلاً ایک راستہ میں مفسد لوگ کنجر وغیرہ آباد ہیں یا شراب خوری ہوتی ہے تو اس کو چھوڑ دیوے اور اگر باطنی راستوں سے سوال کا تعلق ہے تو بھی وہی راستہ اختیار کرے جس میں صلاح اور تقویٰ ہو۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۹ )