ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 34

جھوٹا۔پھر سچ آپ ہی فروغ حاصل کرے گا۔دوم گواہوں سے آپ کا کچھ واسطہ ہی نہیں ہونا چاہیے۔یہ موکل کا کام ہے کہ وہ گواہ پیش کرے۔یہ بہت ہی بُری بات ہے کہ خود تعلیم دی جاوے کہ چند گواہ تلاش کرلائو اور ان کو یہ بات سکھا دو۔تم خود کچھ بھی نہ کہو۔موکل خود شہادت پیش کرے خواہ وہ کیسی ہی ہو۔ہر صحیح بات کا ا ظہار ضروری نہیں پھر سوال ہوا کہ بعض باتیں واقع میں صحیح ہوتی ہیں مگر مصلحتِ وقت اور قانون ان کے اظہار کا مانع ہوتا ہے تو کیا ہم لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ(البقرۃ:۲۸۴) کے موافق ظاہر کر دیا کریں؟ فرمایا۔یہ بات اس وقت ہوتی ہے جب آدمی آزاد بالطبع ہو۔دوسری جگہ یہ بھی تو فرمایا ہے لَاتُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ(البقرۃ:۱۹۶) قانون کی پابندی ضروری شَے ہے۔جب قانون روکتا ہے تو رکنا چاہیے جب کہ بعض جگہ اخفائِ ایمان بھی کرنا پڑتا ہے توجہاں قانون بھی مانع ہو وہاں کیوں اظہار کیا جاوے؟ جس راز کے اظہار سے خانہ بربادی اور تباہی آتی ہو وہ اظہار کرنا منع ہے۔نتائج نیت پر مترتّب ہوتے ہیں مکرر آتش بازی کے متعلق فرمایا کہ اس میں ایک جزو گندھک کا بھی ہوتا ہے اور گندھک وبائی ہوا صاف کرتی ہے۔چنانچہ آج کل طاعون کے ایام میں مثلاً انار بہت جلد ہو اکو صاف کرتا ہے اگر کوئی شخص صحیح نیت اصلاحِ ہوا کے واسطے ایسی آتش بازی جس سے کوئی خطرہ نقصان کا نہ ہو چلاوے تو ہم اس کو جائز سمجھتے ہیں۔مگر یہ شرط اصلاح نیت کے ساتھ ہو۔کیونکہ تمام نتائج نیت پر مترتّب ہوتے ہیں۔حدیث میں آیا ہے کہ صحابی نے گھر بنوایا اور آپؐکو مجبور کیا کہ آپؐاس میں قدم ڈالیں۔آپ نے اس مکان کو دیکھا۔اس کے ایک طرف کھڑکی تھی۔آپ نے دریافت کیا کہ یہ کس لیے بنائی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ٹھنڈی ہوا کے آنے کے واسطے۔آپ نے فرمایا کہ اگر تواذان سننے کے واسطے اس کی نیت رکھتا تو ہوا تو آہی جاتی اور تیری نیت کا ثواب بھی تجھے مِل جاتا۔۱ ۱الحکم جلد۷نمبر۱۵ مورخہ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۱۰