ملفوظات (جلد 5) — Page 33
با جے کے ساتھ اعلان پر پوچھا گیا کہ جب برات لڑکے والوں کے گھر سے چلتی ہے کیا اسی وقت سے با جا بجتا جاوے یا نکاح کے بعد؟ فرمایا۔ایسے سوالات اورجزی دَر جزی نکالنابے فائدہ ہے۔اپنی نیت کو دیکھو کہ کیا ہے اگر اپنی شان وشوکت دکھانا مقصود ہے تو فضول ہے اور اگر یہ غرض ہے کہ نکاح کا صرف اعلان ہو تو اگر گھر سے بھی باجا بجتا جاوے تو کچھ حرج نہیں ہے۔اسلامی جنگوں میں بھی تو باجا بجتا ہے وہ بھی ایک اعلان ہی ہوتا ہے۔نیک نیتی میں برکت ہے ایک زرگر کی طرف سے سوال ہوا کہ پہلے ہم زیوروں کے بنانے کی مزدوری کم لیتے تھے اور ملاوٹ ملادیتے تھے۔اب ملاوٹ چھوڑ دی ہے اور مزدوری زیادہ مانگتے ہیں تو بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم مزدوری وہی دیں گے جو پہلے دیتے تھے تم ملاوٹ ملالو۔ایسا کام ہم ان کے کہنے سے کریں یا نہ کریں؟ فرمایا۔کھوٹ والا کام ہرگز نہیں کرنا چاہیے اور لوگوں کو کہہ دیا کرو کہ اب ہم نے توبہ کرلی ہے جو ایسا کہتے ہیں کہ کھوٹ ملادو وہ گناہ کی رغبت دلاتے ہیں۔پس ایسا کام ان کے کہنے پر بھی ہرگز نہ کرو۔برکت دینے والا خدا ہے اور جب آدمی نیک نیتی کے ساتھ ایک گناہ سے بچتا ہے تو خدا ضرور برکت دیتا ہے۔مُردے اور اسقاط پھر سوال ہوا کہ ملّاں لوگ مُردہ کے پاس کھڑے ہو کر اسقاط کراتے ہیں کیا اس کا کوئی طریق جائز ہے؟ فرمایا۔اس کا کہیں ثبوت نہیں ہے۔مُلّائوں نے ماتم اور شادی میں بہت سی رسمیں پیدا کر لی ہیں۔یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔مقد مات میں مصنوعی گواہ بنانا ایک مختار عدالت نے سوال کیا کہ بعض مقدمات میں اگرچہ وہ سچا اور صداقت پر ہی مبنی ہو مصنوعی گواہوں کا بنانا کیسا ہے؟ فرمایا۔اوّل تو اس مقدمہ کے پیرو کار بنو جو بالکل سچاہو۔یہ تفتیش کر لیا کرو کہ مقدمہ سچا ہے یا